ہم ایران کے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے، نیٹو
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی حکومتوں نے حالیہ دنوں میں ایران میں بدامنی اور بدامنی کے شعلوں کو بھڑکانے کے لیے انسانی حقوق کے اشارے کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری جنرل نیٹو نے اپنے بیانات میں دعویٰ کیا کہ تنظیم ایران کا مقابلہ کرنے میں مداخلت نہیں کرتی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے پیر کے روز برسلز میں منعقدہ یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی (AFET) اور سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس کمیٹی (SEDE) کے اجلاس میں ایران کے بارے میں کہا: "ایران کے معاملے میں ہم صرف اس وقت ان کے ساتھ شامل ہیں جب ایران، شمالی کوریا، روس اور چین کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ایران کو غیر مستحکم کرنے کے لیے امریکہ اور صیہونی حکومت کی کوششوں کا ذکر نہ کرتے ہوئے کہا: "اگر یہ ایران کی اپنی داخلی صورت حال سے متعلق ہے، جس کے بارے میں یقیناً میں بہت زیادہ فکر مند ہوں، تو ہم سب کو تشویش ہے، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں نیٹو مداخلت کرنا چاہتا ہے، کیونکہ نیٹو کی توجہ Euro-lan پر مرکوز ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی حکومتوں نے حالیہ دنوں میں ایران میں بدامنی اور بدامنی کے شعلوں کو بھڑکانے کے لیے انسانی حقوق کے اشارے کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر جرمن چانسلر نے شہریوں پر فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف ایرانی سیکورٹی فورسز کی مزاحمت کے جواب میں ایران سے کہا کہ "تشدد کمزوری کا آلہ ہے۔" مزید برآں، 12 روزہ جنگ کے دوران جس کے نتیجے میں 1100 سے زائد ایرانی شہید ہوئے، فریڈرک مرٹز نے کہا کہ یورپی حکومتوں کو اسرائیل کا شکرگزار ہونا چاہیے کیونکہ تل ابیب ایران کے خلاف مغربی دنیا کی جانب سے "گھناؤنا کام" کر رہا ہے۔ وینزویلا کے جائز صدر کی گرفتاری میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کے حوالے سے یورپی ممالک کی خاموشی ایک اور معاملہ ہے جو ان ممالک کے انسانی حقوق کے اشاروں سے خالی پن کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک ایرانی عوام کے لیے ہمدردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جب کہ وہ خود بھی امریکی پابندیوں کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے اور ایرانی عوام کے لیے روزی روٹی کا بحران پیدا کر رہے ہیں، حالیہ برسوں میں لوگوں کی میزیں سکڑنے کے اہم عوامل میں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں ایران ایران کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔