WE News:
2026-06-02@23:59:07 GMT

امریکا کے بغیر یورپ کا دفاع ایک خواب، نیٹو سربراہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

امریکا کے بغیر یورپ کا دفاع ایک خواب، نیٹو سربراہ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یورپ، امریکا کی فوجی مدد کے بغیر اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یورپی یونین یا پورا یورپ امریکا کے بغیر محفوظ رہ سکتا ہے تو وہ ’خواب دیکھ رہا ہے‘۔

مارک روٹے نے یہ بات پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور امریکا ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلا نہیں چل سکتا۔

دفاعی اخراجات میں کئی گنا اضافے کی ضرورت

نیٹو سربراہ کے مطابق اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر دفاع کرنا چاہے تو اسے اپنے دفاعی بجٹ میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اکیلے چلنا چاہتے ہیں تو 5 فیصد دفاعی اخراجات بھی کافی نہیں ہوں گے، یہ شرح 10 فیصد تک لے جانا پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو اپنی جوہری صلاحیت (نیوکلیئر کیپبیلٹی) بھی خود بنانا ہوگی، جس پر اربوں یورو خرچ ہوں گے۔

ٹرمپ کے بیانات سے نیٹو میں تناؤ

نیٹو کے اندر اس وقت کشیدگی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ گرین لینڈ، نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کی دفاعی ترجیحات میں تبدیلی، یورپی اتحادیوں کو فوجی معاونت محدود کرنے کا اعلان

ٹرمپ نے گرین لینڈ کی یورپی حمایت کرنے والے ممالک پر نئے ٹیرف (محصولات) لگانے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں ایک فریم ورک معاہدے کے بعد یہ دھمکیاں واپس لے لی گئیں۔ اس معاہدے میں مارک روٹے نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اگرچہ اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

نیٹو کا دفاعی معاہدہ اور آرٹیکل 5

نیٹو کے 32 رکن ممالک ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بندھے ہوئے ہیں، جسے آرٹیکل 5 کہا جاتا ہے۔ اس شق کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو تو باقی تمام ممالک اس کے دفاع کے پابند ہوتے ہیں۔

یورپی ممالک کا دفاعی بجٹ بڑھانے کا وعدہ

جولائی میں دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں، یورپی اتحادی ممالک (سوائے اسپین کے) اور کینیڈا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ آئندہ 10 برسوں میں دفاعی اخراجات کو امریکی سطح کے برابر لے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا

اس کے تحت 3.

5 فیصد GDP براہِ راست دفاع پر 1.5 فیصد GDP سیکیورٹی سے متعلق انفراسٹرکچر پر یوں مجموعی طور پر 5 فیصد GDP دفاع پر خرچ کرنے کا ہدف 2035 تک مقرر کیا گیا ہے۔

فرانس کی ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ کی مہم

فرانس طویل عرصے سے یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری (Strategic Autonomy) کی بات کرتا آ رہا ہے، یعنی یورپ اپنا دفاع خود کرے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ برس یہ کہے جانے کے بعد کہ امریکا کی سیکیورٹی ترجیحات اب کہیں اور ہیں، اس موقف کو مزید حمایت ملی ہے۔

امریکی نیوکلیئر چھتری کے بغیر یورپ غیر محفوظ

مارک روٹے نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نیٹو سے پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ اپنی آزادی کے سب سے بڑے ضامن سے محروم ہو جائے گا، یعنی امریکی جوہری تحفظ۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ  اگر آپ امریکا کے بغیر رہنا چاہتے ہیں تو پھر… گڈ لک!

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا مارک روٹے نیٹو چیف یورپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا مارک روٹے نیٹو چیف یورپ امریکا کے بغیر مارک روٹے نے انہوں نے کہ یورپ نیٹو کے کہا کہ

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان