امریکا کے بغیر یورپ کا دفاع ایک خواب، نیٹو سربراہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یورپ، امریکا کی فوجی مدد کے بغیر اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یورپی یونین یا پورا یورپ امریکا کے بغیر محفوظ رہ سکتا ہے تو وہ ’خواب دیکھ رہا ہے‘۔
مارک روٹے نے یہ بات پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے ارکانِ پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور امریکا ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور کوئی ایک فریق اکیلا نہیں چل سکتا۔
دفاعی اخراجات میں کئی گنا اضافے کی ضرورتنیٹو سربراہ کے مطابق اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر دفاع کرنا چاہے تو اسے اپنے دفاعی بجٹ میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اکیلے چلنا چاہتے ہیں تو 5 فیصد دفاعی اخراجات بھی کافی نہیں ہوں گے، یہ شرح 10 فیصد تک لے جانا پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو اپنی جوہری صلاحیت (نیوکلیئر کیپبیلٹی) بھی خود بنانا ہوگی، جس پر اربوں یورو خرچ ہوں گے۔
ٹرمپ کے بیانات سے نیٹو میں تناؤنیٹو کے اندر اس وقت کشیدگی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ گرین لینڈ، نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا کی دفاعی ترجیحات میں تبدیلی، یورپی اتحادیوں کو فوجی معاونت محدود کرنے کا اعلان
ٹرمپ نے گرین لینڈ کی یورپی حمایت کرنے والے ممالک پر نئے ٹیرف (محصولات) لگانے کا اعلان بھی کیا تھا، تاہم بعد میں ایک فریم ورک معاہدے کے بعد یہ دھمکیاں واپس لے لی گئیں۔ اس معاہدے میں مارک روٹے نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اگرچہ اس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
نیٹو کا دفاعی معاہدہ اور آرٹیکل 5نیٹو کے 32 رکن ممالک ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت بندھے ہوئے ہیں، جسے آرٹیکل 5 کہا جاتا ہے۔ اس شق کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہو تو باقی تمام ممالک اس کے دفاع کے پابند ہوتے ہیں۔
یورپی ممالک کا دفاعی بجٹ بڑھانے کا وعدہجولائی میں دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں، یورپی اتحادی ممالک (سوائے اسپین کے) اور کینیڈا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ آئندہ 10 برسوں میں دفاعی اخراجات کو امریکی سطح کے برابر لے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں: یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
اس کے تحت 3.
فرانس طویل عرصے سے یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری (Strategic Autonomy) کی بات کرتا آ رہا ہے، یعنی یورپ اپنا دفاع خود کرے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ برس یہ کہے جانے کے بعد کہ امریکا کی سیکیورٹی ترجیحات اب کہیں اور ہیں، اس موقف کو مزید حمایت ملی ہے۔
امریکی نیوکلیئر چھتری کے بغیر یورپ غیر محفوظمارک روٹے نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نیٹو سے پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ اپنی آزادی کے سب سے بڑے ضامن سے محروم ہو جائے گا، یعنی امریکی جوہری تحفظ۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر آپ امریکا کے بغیر رہنا چاہتے ہیں تو پھر… گڈ لک!
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا مارک روٹے نیٹو چیف یورپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا مارک روٹے نیٹو چیف یورپ امریکا کے بغیر مارک روٹے نے انہوں نے کہ یورپ نیٹو کے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم