سابق بھارتی سینیٹر شانتہ چیتری نے مودی حکومت کو عالمی تنہائی اور خارجہ ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بھارت کے سابق سیاستدان اور سینیٹر شانتہ چیتری نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اندرونی خلفشار اور ناکام خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر تنہائی کا شکار قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارت اس وقت شدید سیاسی، معاشی اور سفارتی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔
شانتہ چیتری کے مطابق مودی حکومت کی سفارت کاری زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی اور زیادہ تر جھوٹے دعوؤں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معیشت، خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بڑھتے ٹیکس، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی ٹیرف عائد ہونا اور چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے سے پیچھے ہٹنا بھارتی خارجہ پالیسی کی واضح ناکامی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، کیونکہ پاکستان نے امریکا، سعودی عرب، ترکیہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ابھرتا ہوا اتحاد بھارت کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
شانتہ چیتری کے مطابق بھارت اس وقت نہ صرف معاشی بلکہ فوجی سطح پر بھی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ اندرونی طور پر بے روزگاری، مہنگائی، عدم مساوات اور ماحولیاتی مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی اور ثقافتی تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل شانتہ چیتری مودی حکومت
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔