فلپائن، سمندر میں کشتی الٹنے سے 15 مسافر ہلاک، 28 لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
منیلا: (ویب ڈیسک) فلپائن کے جنوبی صوبے باسیلان کے قریب 350 سے زائد افراد کو لے جانے والی ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 28 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مسافر بردار جہاز ایم وی ٹرشا کرسٹن 3، بندرگاہی شہر زامبوانگا سے روانہ ہو کر جنوبی سولو کے جزیرے جولو کی جانب جا رہا تھا۔
فلپائنی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز میں ریکارڈ کے مطابق 332 مسافر اور 27 عملے کے افراد سوار تھے، کشتی نے رات 1:50 بجے مدد کے لیے پیغام بھیجا، جو زامبوانگا سٹی سے روانگی کے تقریباً چار گھنٹے بعد تھا، کشتی اچھے موسم میں باسیلان صوبے کے جزیرہ نما گاؤں بالک-بالک سے تقریباً 2 کلومیٹرکے فاصلے پر ڈوب گئی، جہاں ابتدائی طور پر کئی زندہ بچ جانے والوں کو منتقل کیا گیا۔
جنوبی منڈاناؤ ڈسٹرکٹ کے کوسٹ گارڈ کمانڈر رومیل دوا نے بتایا کہ اب تک 316 افراد کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور 28 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوسٹ گارڈ کا ایک طیارہ بھی امدادی کارروائی میں مدد کے لیے روانہ ہو چکا ہے، نیوی اور ایئر فورس نے بھی اپنے وسائل بھیج دیے ہیں، جن افراد کو بچایا گیا اور جنہیں طبی امداد کی ضرورت تھی، انہیں دارالحکومت اسابیلا کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
طبی عملے کی رکن رونالین پیریز نے کہا کہ اصل مسئلہ مریضوں کی بڑی تعداد ہے جو یہاں آ رہی ہے، اس وقت ہمارے پاس عملہ کم ہے۔
باسیلان کے گورنر مجیو ہاتامان نے فیس بک پر اسابیلا بندرگاہ کے مناظر کی ویڈیوز شیئر کیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کو کشتیوں سے اتارا جا رہا ہے، کچھ کو تھرمل کمبل اوڑھائے گئے ہیں جبکہ کچھ کو اسٹریچر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
گورنر ہاتامان کے مطابق زیادہ تر متاثرین کی حالت بہتر ہے، تاہم کئی معمر مسافروں کو فوری طبی امداد کی ضرورت پڑی، ریسکیو آپریشن کے دوران حکام مسافروں کی فہرست کی دوبارہ جانچ کر رہے ہیں۔
کوسٹ گارڈ کمانڈر رومیل دوا نے کہا کہ فیری کے ڈوبنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی، کوسٹ گارڈ نے روانگی سے قبل جہاز کو کلیئر کیا تھا اور زیادہ بوجھ ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے۔
فلپائن جیسے جزیرہ نما ملک میں سمندری حادثات عام ہیں، جن کی وجوہات میں شدید موسمی حالات، ناقص دیکھ بھال والے جہاز، حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا اور حفاظتی قوانین پر کمزور عمل درآمد شامل ہیں۔
دسمبر 1987 میں وسطی فلپائن میں فیری ڈونا پاز ایک تیل بردار جہاز سے ٹکرا کر ڈوب گئی تھی، جس کے نتیجے میں 4,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ واقعہ دنیا کی تاریخ کا بدترین پُرامن سمندری حادثہ سمجھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔