تیراہ میں فوجی آپریشنز سمیت تمام باتیں من گھڑت ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ برفباری کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی ہرسال کا معمول ہے، اس کا آپریشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی فی الحال کوئی آپریشن کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا حکومت اور اور جرگے میں معاملات طے پائے اور چار ارب روپے مختص کیے گئے، صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ وفاق پر ڈال رہی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد کے ساتھ 6 سے 7 ویلیز ہیں، برف باری شروع ہوتے ہی نقل مکانی شروع ہو جاتی ہے، یہ کوئی کرائسز نہیں جسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، 11دسمبر کو ایک جرگہ ہوا جس میں 26 کے قریب مشران شامل تھے، جرگے نے ٹی ٹی پی سے ملاقات کی، صورت حال سے آگاہ کیا، مشران نے صوبائی حکومت سے مل کر صورت حال سے آگاہ کیا، جرگے اور صوبائی حکومت کے ساتھ ارجمنٹ ہوئی، ان علاقے میں آپریشن کئی سال پہلے ہوا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا فیصلہ ہوا، فوج نے عرصہ دراز سے آپریشن کو ترک کر دیا، آپریشن کا وہاں پر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس علاقے میں سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں سے غیرموجودگی ہے۔
اس ہیمپ میں ادویات اور دیگر اشیا کی کاشت ہوتی ہے، اس ہیمپ کی کاشت کا پیسہ ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتا ہے،پاکستان میں بہت جگہوں پر ہمیپ کی کاشت ہو تی ہے، 12ہزارفی ایکڑ منافع کہیں نہیں ملا۔ 11دسمبر کوجرگے کا اگلا مرحلہ24اور پھر 31دسمبر کو ہوا، یہ جرگہ اس سے کئی سال پہلے تشکیل دیا گیا، اس نوٹیفکیشن اور جرگے کی موجودگی میں ریڈار پر فوج کہاں نظرآرہی ہے، کےپی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے اس ساری چیز کو انوکھا بنانے کی کوشش کی، لوگوں کو جن کیمپوں میں رکھا گیا، وہ ضروریات پوری نہیں کر رہے، کیمپوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز سمیت تمام باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں، صوبائی حکومت بتائے 4ارب روپے کہاں لگائے، صوبائی حکومت وہاں کے عوام کیلئے کوئی بہتری کرنا چاہتی ہے جو ہم تیار ہیں، کے پی کے عوام پاکستان کےعوام ہیں،ان کی بہتری کیلئے تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت رہی ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔