سہیل آفریدی کی تیراہ آپریشن سے لاعلمی نااہلی اور گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے، گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
فیصل کریم کنڈی نے کاہ کہ ایک پُرامن صوبہ 2013 میں صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جو آج وہ دوبارہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے سوال کیا کہ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے؟ اسلام ٹائمز۔ گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر اہم بیان جاری کردیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایکس پر اہم پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے وادی تیراہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی شدید تنقید کی۔ فیصل کریم کنڈی نے کاہ کہ ایک پُرامن صوبہ 2013 میں صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جو آج وہ دوبارہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے سوال کیا کہ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بغیر حکومتی منظوری کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور اپنی لاعلمی کا دعویٰ کرے، تو یہ صرف نااہلی نہیں گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے لکھا کہ ’میں وزیراعلی خیبر پختونخواہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ شعبدہ بازی اور ڈرامہ بازی کو ختم کریں، خیبرپختونخوا خصوصا تیراہ اور کرم کی عوام کو اس وقت تقاریر کی نہیں بلکہ واضح قیادت کی ضرورت ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا نے لکھا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی ترجیح آئی ڈی پیز کی فوری بحالی اور سیکورٹی ہونی چاہیے نہ کہ سیاسی ڈرامہ اور انتشار ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے گورنر خیبر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔