سہیل آفریدی کی تیراہ آپریشن سے لاعلمی نااہلی اور گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے، گورنر کے پی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر اہم بیان جاری کردیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایکس پر اہم پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے وادی تیراہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی شدید تنقید کی۔
فیصل کریم کنڈی نے کاہ کہ ایک پُرامن صوبہ 2013 میں صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جو آج وہ دوبارہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے سوال کیا کہ اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے؟
مزید پڑھیںبند کمروں کے فیصلے قبول نہیں، وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹی فکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی
وادی تیراہ میں شدید برف باری، پاک فوج کی فوری اور مؤثر ریلیف سرگرمیاں جاری
وادی تیراہ کو خالی کروانے کا بیان فوج کو بدنام کرنے کی سازش ہے، وزارت اطلاعات
انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بغیر حکومتی منظوری کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور اپنی لاعلمی کا دعویٰ کرے، تو یہ صرف نااہلی نہیں گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے لکھا کہ ’میں وزیراعلی خیبر پختونخواہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ شعبدہ بازی اور ڈرامہ بازی کو ختم کریں، خیبرپختونخوا خصوصا تیراہ اور کرم کی عوام کو اس وقت تقاریر کی نہیں بلکہ واضح قیادت کی ضرورت ہے۔‘
گورنر خیبرپختونخوا نے لکھا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی ترجیح آئی ڈی پیز کی فوری بحالی اور سیکورٹی ہونی چاہیے نہ کہ سیاسی ڈرامہ اور انتشار ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی وادی تیراہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔