گزشتہ تقریباً 3 دہائیوں سے خواتین کے مسائل پر تحقیق کرنے والا ادارہ عکس ریسرچ سینٹر اس بات کا جائزہ لیتا آ رہا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں خواتین کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے اور کن دقیانوسی تصورات کو فروغ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے کا عروج و زوال

ڈان کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز اسلام آباد میں قائم اس ادارے نے ایک غیر رسمی آن لائن ویبینار کا انعقاد کیا جس میں پاکستانی ٹی وی ڈراموں میں دکھائی جانے والی خواتین اور ناظرین کی حقیقی زندگی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ویبینار کا مقصد موجودہ ڈرامہ کہانیوں کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لینا اور یہ جانچنا تھا کہ خواتین کردار کس حد تک حقیقت کے قریب ہیں۔

اس نشست میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور صحافیوں نے شرکت کی۔

عکس کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ آن لائن سروے کے مطابق جس میں خواتین سے پوچھا گیا کہ آیا وہ پاکستانی ڈراموں میں دکھائے گئے خواتین کرداروں سے خود کو جوڑ پاتی ہیں یا نہیں۔ صرف 78 جواب دہندگان میں سے 14 فیصد نے کہا کہ وہ اکثر ان کرداروں سے تعلق محسوس کرتی ہیں جبکہ نصف سے زائد خواتین نے بتایا کہ وہ کبھی کبھار ہی خود کو ان کرداروں سے جوڑ پاتی ہیں تاہم بیشتر نے کہا کہ وہ بالکل بھی ان کرداروں سے خود کو وابستہ نہیں کر پاتیں جو نمائندگی اور حقیقت کے درمیان واضح خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

نشست کا آغاز عکس کی بانی تسنیم احمر کے خیالات سے ہوا جنہوں نے 60، 70 اور 80 کی دہائی کے پاکستانی ڈراموں کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے پی ٹی وی کے کلاسک ڈراموں خدا کی بستی اور حسیہ معین کے دھوپ کنارے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اس دور کے ڈرامے سچائی، سادگی اور بامقصد کہانی پر مبنی ہوتے تھے جبکہ موجودہ ڈرامے ان اقدار سے خاصے دور نظر آتے ہیں۔

مزید پڑھیے: سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 10 پاکستانی ڈرامے کون سے ہیں؟

انہوں نے موجودہ ڈراموں میں حقیقت سے دور مناظر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اکثر خواتین کو گھر کے کام کاج کرتے ہوئے بھی مکمل میک اپ اور سیلون جیسے بالوں کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بظاہر معمولی نظر آنے والے یہ مناظر درحقیقت خواتین کے لیے غیر حقیقی معیار قائم کرتے ہیں۔

تسنیم احمر نے کہا کہ میرا ذاتی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ڈرامے یہ غلط پیغام دیتے ہیں کہ عورت کو ہر جگہ خوبصورت ہی نظر آنا چاہیے جس کا اثر خاص طور پر کم عمر ناظرین پر پڑتا ہے۔

نشست میں شریک نوجوان خواتین نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔ عکس سے وابستہ فریحہ جمال نے بتایا کہ حقیقت میں زیادہ تر خواتین گھر میں سادہ لباس حتیٰ کہ پاجامے میں ہوتی ہیں جو ڈراموں میں دکھائی جانے والی ہمہ وقت سنورے ہوئے کرداروں سے بالکل مختلف ہے۔

انہوں نے جنازوں جیسے سنجیدہ مواقع پر بھی مکمل میک اپ اور بنے سنورے انداز میں خواتین کو دکھانے پر بھی تنقید کی۔

ایک اور شریک گفتگو رافعہ ارشد نے نشاندہی کی کہ یہ مبالغہ آمیز مناظر آہستہ آہستہ ناظرین کی سوچ میں سرایت کر جاتے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے پاکستانی ڈرامے ’کبھی میں کبھی تم‘ کی نقل تیار کرلی، مداحوں کا موازنہ

ان کے مطابق غیر حقیقی خوبصورتی، شاہانہ گھر اور پرتعیش طرزِ زندگی اب محض کہانی نہیں رہے بلکہ ناظرین کی خواہشات اور توقعات کو تشکیل دے رہے ہیں۔

انہوں نے پردے کے پیچھے کی ویڈیوز، گھروں کے ٹورز اور اداکاروں کے ذاتی طرزِ زندگی پر بڑھتی توجہ کو بھی اصل کہانی سے توجہ ہٹنے کی ایک وجہ قرار دیا۔

رافعہ ارشد کا کہنا تھا کہ تخلیق کاروں کو دوبارہ اس مقصد کی طرف لوٹنا ہوگا جس کے تحت ڈرامے بنائے جاتے ہیں جہاں تفریح کے ساتھ ذمہ داری اور سماجی پیغام بھی لازم ہو۔

اگرچہ نشست میں کیس نمبر 9 اور ایک اور پاکیزہ جیسے چند حالیہ ڈراموں کو خواتین کے مسائل اجاگر کرنے پر سراہا گیا تاہم تسنیم احمر نے ان کی پیشکش پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کیس نمبر 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات حد سے زیادہ اتھارٹی کردار جیسے کہ پولیس افسران اور نیوز اینکرز کہانی کی حقیقت پسندی کو کمزور کر دیتے ہیں حالانکہ موضوع انتہائی سنجیدہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل کمی مؤثر کہانی سنانے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 2025 کے پاکستانی ڈراموں کے بہترین گانے کون سے ہیں؟

ویبینار کے اختتام پر عکس کی سینیئر کمیونیکیشن کنسلٹنٹ شہرزاد سمیع الدین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی وی ڈرامے نسل در نسل ناظرین پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اس لیے کہانی سنانے کے عمل کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آج کے ڈرامے اور خواتین پاکستان کے پرانے ڈرامے پاکستانی ڈرامے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ج کے ڈرامے اور خواتین پاکستان کے پرانے ڈرامے پاکستانی ڈرامے پاکستانی ڈرامے کے مطابق انہوں نے کے ساتھ کہا کہ خود کو

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار