عمران خان سے آج بھی کسی سے ملاقات نہ ہوسکی، تینوں بہنیں اور پارٹی رہنما کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد واپس لوٹ گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے آج بھی کسی سے ملاقات نہ ہوسکی، تینوں بہنیں اور پارٹی رہنما کئی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد واپس لوٹ گئے۔
نجی ٹی وی 24 نیوز کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ اور نعیم پنجوتھہ اڈیالہ جیل پہنچے تھے، بانی کی تینوں بہنیں علیمہ خان، عظمی خان اور نورین خان بھی اڈیالہ پہنچی تھیں لیکن بہنوں سمیت کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی ۔ علیمہ خان بھی تین گھنٹے تک دھرنا دینے کے بعد اڈیالہ روڈ سے واپس روانہ ہو گئیں۔
ججز کی سکیورٹی، آئی جی پنجاب نے 23کڑور 86 لاکھ 45 ہزار روپے کی نئی گاڑیاں خریدنے کی سمری وزیراعلیٰ کو بھجوا دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔