پینگوئن کی وائرل ویڈیو نے ماورا حسین کی زندگی میں کیا اہم کردار ادا کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
نہلسٹ پینگوئن نے پاکستان کی مشہور اداکارہ ماورا حسین کی زندگی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
ماورا حسین نے حال ہی میں بتایا کہ پینگوئن کی وائرل ویڈیو نے ان کی زندگی میں ایک اہم قدم اٹھانے میں مدد کی۔ اداکارہ نے اس ویڈیو کو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ویڈیو انہیں اپنے کیریئر کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی ہمت دینے والا لمحہ تھا۔
ماورا نے لکھا کہ پانچ سال قبل جب وہ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوئیں، تو بہت سے لوگ انہیں کہتے رہے کہ یہ فیصلہ ان کے کیریئر کےلیے نقصان دہ ہوگا اور انہیں اب کم کام ہی ملے گا۔ تاہم انہوں نے دل کی سن کر یہ قدم اٹھایا اور آج انہیں یقین ہے کہ یہ ان کے لیے سب سے بہترین فیصلہ تھا۔
اداکارہ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ کبھی بھی چوہوں کی طرح اندھا دھند دوڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہر شخص کو اپنی منزل خود چننی چاہیے اور اس میں محفوظ رہنا ضروری ہے۔
انسٹا اسٹوری میں ماورا جس ویڈیو کا حوالہ دے رہی تھیں، وہ اصل میں ایک اکیلے پینگوئن کی ہے جو اپنی کمیونٹی سے الگ ہو کر برفانی پہاڑوں کی سمت چل پڑتا ہے۔
یہ ویڈیو 2007 میں ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم Encounters at the End of the World کا حصہ تھی اور اب دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر لوگوں کے لیے حوصلہ افزا اور علامتی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔
یہ منظر صارفین کے لیے اس لیے بھی دلچسپی کا باعث بنا کہ پینگوئن کا اکیلا اور منفرد سفر انہیں اپنی زندگی کے فیصلوں اور مشکلات سے جوڑتا محسوس ہوا۔ ماورا حسین کی طرح کئی افراد نے اس ویڈیو میں اپنی ذاتی کہانی کے عکس دیکھے اور اسے اپنے لیے ایک متاثر کن علامت بنایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماورا حسین
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔