کینیا سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی کارکن نے مسلسل 72 گھنٹے تک درخت سے لپٹ کر گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سرسبز و شاداب مدینہ، مزید21 لاکھ درخت لگانے کا نیا منصوبہ شروع

22 سالہ ٹروفینا موتھونی نے یہ اعزاز حاصل کرتے ہوئے درخت سے لپٹنے کے طویل ترین میراتھن کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

ٹروفینا موتھونی نے اس سے قبل قائم کیا گیا ریکارڈ توڑ دیا جو گھانا کے فریڈرک بوکائے نے 50 گھنٹے، 2 منٹ اور 28 سیکنڈ تک درخت سے لپٹ کر بنایا تھا۔ موتھونی نے یہ ریکارڈ 26 جنوری کو مکمل کیا۔

ٹروفینا نے اپنا ہی ریکارڈ توڑا

واضح رہے کہ ٹروفینا موتھونی اس سے قبل بھی فروری 2025 میں 48 گھنٹے تک درخت سے لپٹ کر یہی ریکارڈ اپنے نام کر چکی تھیں تاہم اس بار انہوں نے اپنی ہی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے نیا عالمی سنگِ میل عبور کیا۔

مزید پڑھیے: کیا کوہاٹ کا منفرد ذائقے والا امرود درختوں سے غائب ہوجائے گا؟

گنیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹروفینا موتھونی نے کہا کہ میری پہلی کوشش ایک پیغام تھی، ایک سادہ اور قریبی عمل کے ذریعے انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش۔

انہوں نے کہا کہ دوسری بار یہ ریکارڈ بنانے کا مقصد محض علامت نہیں بلکہ عزم کا اظہار تھا۔

ٹروفینا نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ دنیا کو صرف علامتی اقدامات نہیں بلکہ ثابت قدمی، تسلسل اور اس بات کے ثبوت کی ضرورت ہے کہ زمین کی دیکھ بھال وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے درخت کاٹنے پر پابندی عائد کردی

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کوئی ایک وقتی عمل نہیں بلکہ طویل المدتی ذمہ داری ہے جس کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹروفیناموتھونی درخت درخت سے لپٹنے کا عالمی ریکارڈ درختوں سے محبت ماحولیات کا تحفظ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: درختوں سے محبت ماحولیات کا تحفظ نہیں بلکہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان