درختوں سے محبت: نوجوان سماجی کارکن نے درخت سے 72 گھنٹے لپٹے رہ کر عالمی ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کینیا سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی کارکن نے مسلسل 72 گھنٹے تک درخت سے لپٹ کر گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرسبز و شاداب مدینہ، مزید21 لاکھ درخت لگانے کا نیا منصوبہ شروع
22 سالہ ٹروفینا موتھونی نے یہ اعزاز حاصل کرتے ہوئے درخت سے لپٹنے کے طویل ترین میراتھن کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
ٹروفینا موتھونی نے اس سے قبل قائم کیا گیا ریکارڈ توڑ دیا جو گھانا کے فریڈرک بوکائے نے 50 گھنٹے، 2 منٹ اور 28 سیکنڈ تک درخت سے لپٹ کر بنایا تھا۔ موتھونی نے یہ ریکارڈ 26 جنوری کو مکمل کیا۔
واضح رہے کہ ٹروفینا موتھونی اس سے قبل بھی فروری 2025 میں 48 گھنٹے تک درخت سے لپٹ کر یہی ریکارڈ اپنے نام کر چکی تھیں تاہم اس بار انہوں نے اپنی ہی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے نیا عالمی سنگِ میل عبور کیا۔
مزید پڑھیے: کیا کوہاٹ کا منفرد ذائقے والا امرود درختوں سے غائب ہوجائے گا؟
گنیز ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹروفینا موتھونی نے کہا کہ میری پہلی کوشش ایک پیغام تھی، ایک سادہ اور قریبی عمل کے ذریعے انسانیت کو زمین سے دوبارہ جوڑنے کی کوشش۔
انہوں نے کہا کہ دوسری بار یہ ریکارڈ بنانے کا مقصد محض علامت نہیں بلکہ عزم کا اظہار تھا۔
ٹروفینا نے کہا کہ مجھے احساس ہوا کہ دنیا کو صرف علامتی اقدامات نہیں بلکہ ثابت قدمی، تسلسل اور اس بات کے ثبوت کی ضرورت ہے کہ زمین کی دیکھ بھال وقتی نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے درخت کاٹنے پر پابندی عائد کردی
ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کوئی ایک وقتی عمل نہیں بلکہ طویل المدتی ذمہ داری ہے جس کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹروفیناموتھونی درخت درخت سے لپٹنے کا عالمی ریکارڈ درختوں سے محبت ماحولیات کا تحفظ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: درختوں سے محبت ماحولیات کا تحفظ نہیں بلکہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔