پیٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس کے دوران پیٹرولیم سیکٹر میں ہونے والی اربوں روپے کے بے ضابطگیاں سامنے آگئیں۔
پی اے سی نے اجلاس میں مالی سال 23-2022 میں آر ایل این جی پر برآمد کنندگان کو 28 ارب روپے سبسڈی دینے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے استعمال سے متعلق سہ ماہی رپورٹس حاصل نہیں کیں اور نہ ہی یہ جانچا گیا کہ سبسڈی لینے کے بعد واقعی برآمدات ہوئیں یا نہیں۔ حکام نے تسلیم کیا کہ ای سی سی کو رپورٹس نہیں بھیجی گئیں تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ سبسڈی کی فراہمی کابینہ اور ای سی سی کی ہدایات کے مطابق تھی۔
آڈٹ حکام کے مطابق سبسڈی کے استعمال کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی نہیں کروایا گیا۔ پی اے سی نے آڈٹ اعتراض نمٹاتے ہوئے آئندہ سبسڈی کے بعد تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی قرار دے دیا۔
اجلاس میں ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے ایک ارب روپے ایل پی ایس کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈی جی آئل نے بتایا کہ ایل پی ایس کی مد میں مجموعی طور پر 222 ارب روپے مختلف کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا ہیں۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے جب کہ رکن پی اے سی بلال احمد مندوچیل نے کہا کہ اس مخصوص معاملے پر سپریم کورٹ واضح ہدایات دے چکی ہے۔کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے وزارت پیٹرولیم کو دو ہفتوں میں ریکوری کا مکمل روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
پی اے سی کو آگاہ کیا گیا کہ یو ای پی ایل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے درمیان تنازعے کے باعث 76 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ پی پی ایل حکام نے بتایا کہ یو ای پی نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے جب کہ سندھ اسمبلی کے قانون کے بعد 4 مقدمات نچلی عدالتوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔
ڈی جی پی سی نے بتایا کہ یو ای پی نے تنازعے کے حل کے لیے کی گئی اسٹڈی ماننے سے انکار کر دیا، جس پر پی اے سی نے ڈی جی پی سی کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور نقصان کے ازالے اور تنازعے کے خاتمے کے لیے پٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتے کی مہلت دے دی۔
اجلاس میں ریزروائر اسٹڈی کے لیے غیر ملکی کمپنی کو خلاف قواعد ٹھیکہ دینے سے 8 کروڑ 59 لاکھ روپے کے نقصان اور پائپ لائن منصوبے میں خلاف قواعد پروکیورمنٹ سے 2 ارب 42 کروڑ روپے اضافی لاگت کے پیرا بھی زیر غور آئے۔آڈٹ حکام نے لاگت میں اضافے کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ پٹرولیم ڈویژن حکام نے کرونا وبا کو وجہ قرار دیا جب کہ پی اے سی نے آڈٹ کو پی پی ایل کے مؤقف کی تصدیق کی ہدایت کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی اے سی نے ارب روپے حکام نے پی ایل
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ایک ہزار 800 روپے سستا ہوگیا، جس کے بعد سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 35 ہزار 636 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک ہزار 543 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 73 ہزار 487 روپے مقرر کی گئی ہے۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 18 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 96 ڈالر پر آگیا۔