Jasarat News:
2026-06-02@22:27:07 GMT

پیٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

پیٹرولیم سیکٹر میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں بے نقاب

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس  کے دوران پیٹرولیم سیکٹر میں ہونے والی اربوں روپے کے بے ضابطگیاں سامنے آگئیں۔

پی اے سی نے اجلاس میں مالی سال 23-2022 میں آر ایل این جی پر برآمد کنندگان کو 28 ارب روپے سبسڈی دینے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔

آڈٹ حکام کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے استعمال سے متعلق سہ ماہی رپورٹس حاصل نہیں کیں اور نہ ہی یہ جانچا گیا کہ سبسڈی لینے کے بعد واقعی برآمدات ہوئیں یا نہیں۔ حکام نے تسلیم کیا کہ ای سی سی کو رپورٹس نہیں بھیجی گئیں تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ سبسڈی کی فراہمی کابینہ اور ای سی سی کی ہدایات کے مطابق تھی۔

آڈٹ حکام کے مطابق سبسڈی کے استعمال کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی نہیں کروایا گیا۔ پی اے سی نے آڈٹ اعتراض نمٹاتے ہوئے آئندہ سبسڈی کے بعد تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی قرار دے دیا۔

اجلاس میں ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے ایک ارب روپے ایل پی ایس کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈی جی آئل نے بتایا کہ ایل پی ایس کی مد میں مجموعی طور پر 222 ارب روپے مختلف کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے جب کہ رکن پی اے سی بلال احمد مندوچیل نے کہا کہ اس مخصوص معاملے پر سپریم کورٹ واضح ہدایات دے چکی ہے۔کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے وزارت پیٹرولیم کو دو ہفتوں میں ریکوری کا مکمل روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

پی اے سی کو آگاہ کیا گیا کہ یو ای پی ایل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے درمیان تنازعے کے باعث 76 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ پی پی ایل حکام نے بتایا کہ یو ای پی نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے جب کہ سندھ اسمبلی کے قانون کے بعد 4 مقدمات نچلی عدالتوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔

ڈی جی پی سی نے بتایا کہ یو ای پی نے تنازعے کے حل کے لیے کی گئی اسٹڈی ماننے سے انکار کر دیا، جس پر پی اے سی نے ڈی جی پی سی کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور نقصان کے ازالے اور تنازعے کے خاتمے کے لیے پٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتے کی مہلت دے دی۔

اجلاس میں ریزروائر اسٹڈی کے لیے غیر ملکی کمپنی کو خلاف قواعد ٹھیکہ دینے سے 8 کروڑ 59 لاکھ روپے کے نقصان اور پائپ لائن منصوبے میں خلاف قواعد پروکیورمنٹ سے 2 ارب 42 کروڑ روپے اضافی لاگت کے پیرا بھی زیر غور آئے۔آڈٹ حکام نے لاگت میں اضافے کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ پٹرولیم ڈویژن حکام نے کرونا وبا کو وجہ قرار دیا جب کہ پی اے سی نے آڈٹ کو پی پی ایل کے مؤقف کی تصدیق کی ہدایت کر دی۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی اے سی نے ارب روپے حکام نے پی ایل

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان