اقوامِ متحدہ کا غزہ میں 3 لاکھ بچوں کو اسکول واپس لانے کے لیے بڑا تعلیمی منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اقوامِ متحدہ نے منگل کو غزہ میں بچوں کو اسکول واپس لانے کے لیے ایک بڑے ہنگامی تعلیمی منصوبے کا اعلان کیا۔ یونیسیف کے مطابق اکتوبر 2023 میں اسرائیل کے حملوں کے بعد غزہ کے قریباً 90 فیصد اسکول تباہ ہو گئے اور 7 لاکھ سے زائد اسکول جانے والے بچے تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کے ایس ریلیف‘ کی غزہ میں امدادی سرگرمیاں جاری، طلبہ میں گرم ملبوسات تقسیم
یونیسیف کا ہدف ہے کہ 2026 کے آخر تک 3 لاکھ 36 ہزار بچوں کو اسکول میں دوبارہ شامل کیا جائے اور 2027 تک تمام اسکول عمر بچوں کی تعلیم بحال کی جائے۔ اس منصوبے میں فلسطینی وزارتِ تعلیم اور اقوامِ متحدہ کے ادارے UNRWA کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ تعلیم ایک ایمرجنسی ہے، صرف ایک سہولت نہیں اور یہ اسکول بچوں کے لیے محفوظ جگہیں فراہم کرتے ہیں، جہاں صحت، غذائیت اور حفظانِ صحت کی خدمات بھی دستیاب ہیں۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد
اس کے علاوہ، یونیسیف نے 4,400 سے زائد تفریحی کٹس اور 240 اسکول ان اے کارٹن کٹس غزہ میں پہنچا دی ہیں، اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے تک یہ تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول واپس اقوام متحدہ غزہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول واپس اقوام متحدہ کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔