سندھ: محکمہ تعلیم کے 9 بجے اسکول کھولنے کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
— فائل فوٹو
سندھ میں بیکن ہاؤس اسکولنگ سسٹم اور دیگر کچھ اسکولوں نے سردیوں میں محکمہ تعلیم کے 9 بجے اسکول کھولنے کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ہیں۔
شدید سردی میں طلباء کو صبح 8 بجے سے قبل زبردستی اسکول بلایا جا رہا ہے جبکہ تاخیر سے پہچنے والے طلبہ کو اسکول میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی چھٹیاں ہو رہی ہے۔
یاد رہے محمکہ اسکول ایجوکیشن سندھ سردی کے سبب اسکول صبح 9 بجے شروع کرنے کے فیصلہ میں توسیع کر دی تھی اور اعلان کیا تھا سردی کے پیش نظر اسکول 4 فروری تک صبح 9 کھلیں گے۔
فیصلہ کا اطلاق سرکاری و نجی اسکولز پر یکساں ہوگا جس کا باقاعدہ نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا تھا تاہم بیکن ہاؤس گروپ کے اسکولوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔
بیکن ہاؤس کے ذمہ دار عارف جلیل سے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔
بعد ازاں، ایڈشنل ڈائریکٹر پروفیسر رفیعہ ملاح نے بتایا کہ بیکن ہاؤس انتظامیہ سے بات ہوگئی ہے اور انہیں سختی سے ہدایت کی گئی ہے وہ نوٹیفکیشن کے مطابق سردی میں 9 بجے اسکول کھولیں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ایکشن لیا جائے گا۔
رفیعہ ملاح کے مطابق بیکن ہاؤس انتظامیہ نے بدھ سے اسکول 9 بجے کھولنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیکن ہاؤس
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔