بیرونی سرمایہ کاری میں بڑی کمی، ماہانہ اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی گئی جس کے مطابق پہلے چھ ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم 81 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، ملکی برآمدات بھی 5 فیصد کمی سے 15.
آؤٹ لُک رپورٹ کے مطابق درآمدات 12.3 فیصد اضافے سے 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، چھ ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے سے 19.73 ارب ڈالر رہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر رہا۔
رپورٹ کے مطابق ڈالر ریٹ 278.7 سے بڑھ کر 279.9 روپے تک پہنچ گیا، پہلے پانچ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پرائمری سرپلس 3651 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کی آؤٹ لُک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر ریونیو 9.5 فیصد اضافے سے 6 ہزار 160 ارب روپے رہا، نان ٹیکس ریونیو 4.8 فیصد اضافے سے 3581 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر ہوگئے، مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی استحکام برقرار رہا، مالی سال 26-2025 میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ آؤٹ لُک رپورٹ کے مطابق بہتر مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام کو سہارا ملا، رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، مہنگائی قابو میں، ایل ایس ایم کی نمو میں واضح بہتری آئی۔
رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط، روپے کی قدر مستحکم ہے، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی ہے، عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ا و ٹ ل ک رپورٹ فیصد اضافے سے ریکارڈ کی ارب ڈالر
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں