انڈونیشیا: مغربی صوبے جاوا میں لینڈسلائیڈنگ سے 38 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈونیشیا کے مغربی صوبہ جاوا کے علاقے سیسارُوا میں لینڈ سلائیڈنگ سے 38 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ لاشوں کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق کے مطابق قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (بی این پی بی) نے بتایا کہ پیر کی شام تک 20 افراد کی شناخت مکمل کر کے لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی 18 لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
قومی ادارہ برائے قدرتی آفات (بی این پی بی) کے مطابق منگل کی صبح سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا، اس آپریشن میں تقریباً 800 اہلکار اور نو ایکسکیویٹرز حصہ لے رہے ہیں۔ جس میں اضافی بھاری مشینری شامل کی گئی ہے تاکہ متاثرہ علاقے میں تلاش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 685 افراد اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں، جنہیں دفاتر اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دو راتوں تک ہونے والی شدید بارش کے باعث پیش آیا، جس سے پہاڑی علاقے کی کھڑی ڈھلوانوں میں پانی بھر گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
جنوب مغربی فرانس میں جنگلاتی آگ کے پھیلنے کے باعث 43,000 سے زائد رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرکاچون بے اور جزیرہ نما کیپ فیرٹ کے قریب سب سے بڑی آگ نے 8,700 ایکڑسے زیادہ رقبے کو جلا دیا ہے۔
رات بھر آگ لگنے کے بعد حکام نے پورے جزیرہ نما کیپ فیرٹ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔
مقامی حکام کے مطابق ہمسایہ خطوں میں بسکاروس کے قریب ایک علیحدہ جنگلاتی آگ نے 2,500 ایکڑ سے زیادہ رقبہ کو جلا دیا ہے جس سے 23,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں رہائشی، کیمپرز اور چھٹیاں منانے آئے سیاح شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ فرانس نے یورپی یونین کے شہری تحفظ کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے۔