لوگوں کو برفباری میں گھربارخالی کرنے پر مجبور کیا گیا، خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ بلا رہا ہوں; سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلانے کا اعلان کردیا۔
وادی تیراہ آپریشن سے متعلق ویڈیو بیان میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ بانی پی ٹی آئی کی منتخب جمہوری حکومت گرائی گئی، بانی پی ٹی آئی کی حکومت کےخاتمےکے بعد دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو جرگے کیے، اُس وقت پی ڈی ایم کی حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔انہوں نےکہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے نتیجے میں بےامنی بھی لوٹ آئی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی، آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو برفباری کے موسم میں گھربارخالی کرنے پر مجبور کیا گیا، اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔