مس یونیورس امیدوار 33 سالہ جیلین بریسٹ کینسر سے نبر د آزما؛ دردناک کہانی سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سابق مس یونیورس امیدوار اور ٹی وی میزبان جیلین الواریز نے انکشاف کیا ہے کہ صرف 33 برس کی عمر میں بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کا سامنا کر رہی ہوں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف شوبز شخصیت نے یہ انکشاف انسٹاگرام پر کیا اور بتایا کہ کینسر کی تشخیص کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل چکی ہے۔
ماڈل جیلین نے بتایا کہ ابتدا میں ہی اپنی علامات کو سنجیدگی سے نہ لینے پر افسوس ہیں اور خواتین کو مشورہ دوں گی کہ اس غلطی سے بچیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ وہ اس مشکل مرحلے سے اپنے پروردگار پر کامل یقین، مضبوط ایمان اور پُرسکون دل کے ساتھ کاٹ رہی ہیں۔
جیلین نے بتایا کہ زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب آپ موت کا سامنا کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ابھی نہیں، میرے ساتھ نہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ اپنی اصل طاقت اور حوصلہ دریافت کرتے ہیں۔
جیلین نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے خود اپنی چھاتی میں گلٹی محسوس ہوئی تھی مگر ابتدا میں اسے نظرانداز کر دیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد وہ بڑھ چکی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ جس پر مجھے تشویش ہوئی اور جب طبی معائنہ کروایا تو بریسٹ کینسر کی تصدیق ہوگئی اور اب علاج جاری ہے۔
ماڈل جیلین نے یہ بھی بتایا کہ میرے خاندان میں کینسر کا مرض نسل در نسل ہے اس لیے مجھے ابتدا میں ہی خبردار ہوجانا چاہیئے تھا۔
انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ کینسر ابھی جسم کے دیگر حصوں میں نہیں پھیلا۔ کیموتھراپی جاری ہے۔ بال جھڑ چکے ہیں اور میں وگ پہنتی ہوں۔
جیلین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی بیماری سے جنگ کے سفر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہیں گی تاکہ دیگر خواتین کو حوصلہ ملے اور وہ بروقت طبی معائنہ کرانے کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔
یاد رہے کہ جیلین الواریز نے 2021 میں مس یونیورس پیورٹو ریکو مقابلے میں سان لورینزو کی نمائندگی کی تھی جہاں وہ دوسری پوزیشن پر رہیں اور “ٹوٹل لک ایوارڈ” بھی حاصل کیا۔
نومبر 2024 میں وہ مس یونیورس کے فائنل میں فاتح امیدوار کو سیش پہنانے کے لیے بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مس یونیورس جیلین نے بتایا کہ ہیں اور
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔