کراچی؛ خود کو آغا سراج درانی کا بھانجا کہنے والے کار سوار کیخلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی:
فیڈرل بی صنعتی ایریا پولیس نے لفٹر ڈرائیور کی مدعیت میں خود کو آغا سراج درانی کا بھانجا کہنے والے کار سوار کے خلاف جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا مقدمہ درج کرلیا۔
کار سوار کی جانب سے لفٹر ڈرائیور کو اسلحے کے زور پر جھگڑا اور دھمکیاں دینے کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے ایک مسلح شخص کو لفٹر ڈرائیور سے جھگڑا اور اسلحہ تانے ہوئے دکھائی دیا جبکہ لفٹر کے آگے ایک سفید رنگ کی کار بھی کھڑی ہوئی دکھائی۔
ایس ایچ او فیڈرل بی صنعتی ایریا آفتاب عباسی نے اس حوالے سے بتایا کہ واقعہ 25 جنوری کی شام پیش آیا تھا جس کا مقدمہ نمبر 22 سال 2026 بجرم 506 بی کے تحت پولیس نے گزشتہ روز لفٹر ڈرائیور علی رضا کی مدعیت میں نامزد ملزم کے خلاف درج کرلیا۔
مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ راشد منہاس روڈ پر قائم ایک شاپنگ مال میں لفٹر چلاتا ہے اور 25 جنوری کو حسب معمول لفٹر لیکر شاپنگ مال جا رہا تھا کہ شام سوا پانچ بجے کے قریب شاپنگ مال کے کنسٹرکشن گیٹ کے سامنے سفید رنگ کی کا سی اے ٹی 607 میرے لفٹر کے سامنے کھڑی تھی جس پر میں کار سوار سے کہا کہ اپنی گاڑی آگے کر دیں مجھے اندر جانا ہے۔
مدعی کے مطابق اس بات پر کار سوار شخص اپنی گاڑی سے اتر نیچے آیا اور مجھے گالم گلوچ کرتے ہوئے ٹی ٹی پستول لوڈ کر کے مجھ پر جان سے مارنے کی نیت تان دی اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے مجھے لفٹر سے نیچے کھینچ لیا اور کہنے لگا کہ تم مجھے نہیں جانتے خشحال درانی نام ہے میرا اور مجھے دھمکیاں دیتا رہا کہ میں آغا سراج درانی بھانجا ہوں تمھارے ساتھ دیکھ لونگا۔
مدعی کے مطابق میں خوفزدہ ہوگیا تھا اس واقعے کو شاپنگ مال کی انتظامیہ نے بھی دیکھا لہذا اب میں رپورٹ درج کرانے آیا ہوں میرا دعویٰ کار نمبر بالا میں سوار شخص خوشحال درانی پر مجھے اسلحہ تان کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا ہے لہذا کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پولیس نے مدعی کے بیان کی روشنی میں مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا جو اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جان سے مارنے کی لفٹر ڈرائیور شاپنگ مال کار سوار
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک