کراچی میں بے قابو موٹرسائیکل نے کمسن بچے کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بچہ سڑک پر تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے جاں بحق ہوا، جبکہ زخمی افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے جو کہ گرنے کے باعث زخمی ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے میمن گوٹھ میں تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے کمسن بچہ جاں بحق، جبکہ موٹر سائیکل سوار افراد شدید زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق میمن گوٹھ تھانے کے علاقے مگر علی شاہ درگاہ کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک کمسن بچہ جاں بحق اور موٹر سائیکل سوار 2 افراد شدید زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے کے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ متوفی کمسن بچے کے شناخت 8 سالہ فرقان اور زخمی افراد کی شناخت 30 سالہ جمیل اور 45 سالہ علی کے نام سے کی گئی۔
ایس ایچ او میمن گوٹھ جاوید ابڑو کے مطابق حادثے میں بچہ سڑک پر تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے جاں بحق ہوا، جبکہ زخمی افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے جو کہ گرنے کے باعث زخمی ہوئے۔ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفی بچے کی لاش ورثا کے حوالے کر دی، پولیس حادثے سے متعلق مزید بھی تفتیش کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز