عمران خان کی صحت کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اپنے ایک ایکس بیان میں رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کو گزشتہ 105 دنوں سے اہلِخانہ، وکلاء اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اختلافِ رائے یا سیاسی مخالفت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اس کے باوجود معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں جو مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اپنے ایک ایکس بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ 105 دنوں سے اہلِخانہ، وکلاء اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، اختلافِ رائے یا سیاسی مخالفت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں سے ملاقات، علاج اور معلومات تک رسائی کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہو رہے ہیں بلکہ ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار اداروں سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، صحت کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔