اسلام آباد:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو سپرٹیکس کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں 300 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ایف بی آر کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4 بی اور 4سی (سپر ٹیکس) سے متعلق مقدمات کی سماعت کے بعد ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے اپنا مختصر حکم نامہ جاری کر دیا، جس میں سپرٹیکس کو برقرار رکھا گیا ہے اور اس فیصلے کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 300 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس کے معاملات کی  معروف وکیل عاصمہ حمید نے دلائل پیش کیے اور عدالت نے دفعہ 4 بی کے تحت دائر کردہ ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دفعہ چار بی کو آئینی طور پر ایک جائز ٹیکس قرار دیا۔

ایف بی آر نے کہا کہ عدالت نے دفعہ 4 سی سپر ٹیکس سے متعلق کمشنرز ان لینڈ ریونیو فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاق کی جانب سے دائر اپیلیں بھی منظور کرتے ہوئے دفعہ چار سی کو نافذ شدہ صورت میں آئینی طور پر درست اور ٹیکس سال 2022 کے لیے  مؤثر بہ ماضی  قابلِ اطلاق قرار دیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس سال 2022 کے لیے دفعہ  4سی کے تحت سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہوگی جو آرڈیننس کے  ڈویژن IIB کے پہلے شرائط نامے میں درج 15 شعبہ جات پر لاگو ہوگی بشرطیکہ متعلقہ ٹیکس سال میں ان کی آمدن 300 ملین روپے سے تجاوز کر گئی ہو، تیل ا ور گیس تلاش کرنے والی پیٹرولیم کمپنیوں کے حوالے سے جن کا کاروبار انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے پانچویں شیڈول کے تحت پیٹرولیم اوررعایتی معاہدوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔

عدالت نے کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ نئے نوٹسز جاری کریں اور ہر معاہدے کی شرائط و ضوابط کے مطابق قانون کے تحت دفعہ 4 سی کا اطلاق کریں اس بات کو مدنظر ر کھا جائے کہ معاہدوں میں طے شدہ حد سے تجاوز نہ ہو۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 4 سی کے تحت بینکنگ کمپنیوں پر سپرٹیکس، ٹیکس سال 2023 اور اس کے بعد کے سالوں کے لیے قابلِ اطلاق ہوگا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف بی آر عدالت نے قرار دیا ٹیکس سال کے تحت

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم