وفاقی آئینی عدالت کے سپرٹیکس سے متعلق فیصلے سے 300 ارب ریونیو متوقع ہے، ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو سپرٹیکس کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں 300 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ایف بی آر کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4 بی اور 4سی (سپر ٹیکس) سے متعلق مقدمات کی سماعت کے بعد ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے اپنا مختصر حکم نامہ جاری کر دیا، جس میں سپرٹیکس کو برقرار رکھا گیا ہے اور اس فیصلے کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً 300 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس کے معاملات کی معروف وکیل عاصمہ حمید نے دلائل پیش کیے اور عدالت نے دفعہ 4 بی کے تحت دائر کردہ ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے دفعہ چار بی کو آئینی طور پر ایک جائز ٹیکس قرار دیا۔
ایف بی آر نے کہا کہ عدالت نے دفعہ 4 سی سپر ٹیکس سے متعلق کمشنرز ان لینڈ ریونیو فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاق کی جانب سے دائر اپیلیں بھی منظور کرتے ہوئے دفعہ چار سی کو نافذ شدہ صورت میں آئینی طور پر درست اور ٹیکس سال 2022 کے لیے مؤثر بہ ماضی قابلِ اطلاق قرار دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس سال 2022 کے لیے دفعہ 4سی کے تحت سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہوگی جو آرڈیننس کے ڈویژن IIB کے پہلے شرائط نامے میں درج 15 شعبہ جات پر لاگو ہوگی بشرطیکہ متعلقہ ٹیکس سال میں ان کی آمدن 300 ملین روپے سے تجاوز کر گئی ہو، تیل ا ور گیس تلاش کرنے والی پیٹرولیم کمپنیوں کے حوالے سے جن کا کاروبار انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے پانچویں شیڈول کے تحت پیٹرولیم اوررعایتی معاہدوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔
عدالت نے کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ نئے نوٹسز جاری کریں اور ہر معاہدے کی شرائط و ضوابط کے مطابق قانون کے تحت دفعہ 4 سی کا اطلاق کریں اس بات کو مدنظر ر کھا جائے کہ معاہدوں میں طے شدہ حد سے تجاوز نہ ہو۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 4 سی کے تحت بینکنگ کمپنیوں پر سپرٹیکس، ٹیکس سال 2023 اور اس کے بعد کے سالوں کے لیے قابلِ اطلاق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر عدالت نے قرار دیا ٹیکس سال کے تحت
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت