سپر ٹیکس عائد کرنے سے کتنی آمدن متوقع؟ ایف بی آر نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹیکس کے معاملات کی وکیل نے سپر ٹیکس عائد کرنے کے بارے دلائل پیش کیے، عدالت نے ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر کے دفعہ 4 بی کو آئینی طور پر جائز قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس عائد کرنے کی توثیق کردی، سپر ٹیکس عائد کرنے سے 300 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹیکس کے معاملات کی وکیل عاصمہ حمید نے دلائل پیش کیے، عدالت نے ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر کے دفعہ 4 بی کو آئینی طور پر جائز قرار دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس 2022ء کیلئے دفعہ 4 سی کے تحت سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہوگی، عدالت نے تیل اور گیس تلاش کرنے والی پیٹرولیم کمپنیوں کو نئے نوٹسز جاری کرنے کا حکم دیا۔ بینکنگ کمپنیوں پر سپر ٹیکس 2023ء اور اس کے بعد کے سالوں کیلئے قابل اطلاق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپر ٹیکس عائد کرنے عدالت نے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔