وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیتے ہوئے درخواستیں مسترد کر دیں اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت عائد سپر ٹیکس کو برقرار رکھا ہے۔
عدالت نے کیس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق تمام اعتراضات بھی مسترد کر دیے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 4 بی سن 2015 سے نافذ العمل رہے گا۔
جبکہ ہائیکورٹس کی جانب سے سیکشن 4 سی کے حوالے سے دیے گئے فیصلے جزوی طور پر کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو آئین کے تحت آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
یہ مختصر فیصلہ آج اس وقت سنایا گیا جب آئینی عدالت نے سپر ٹیکس اپیلوں کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ سنانے کا عندیہ دیا تھا۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کی۔
وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد سپر ٹیکس سے متعلق قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے اور حکومت کے مؤقف کو آئینی جواز حاصل ہو گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سپر ٹیکس وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپر ٹیکس وفاقی ا ئینی عدالت آئینی عدالت عدالت نے سپر ٹیکس پر ٹیکس
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔