پنجاب پولیس بھرتیوں میں طبی قوانین جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم اور رہنما فیصلہ جاری کرتے ہوئے 90 سال پرانے پولیس میڈیکل رولز پر نظرثانی کی ہدایت دے دی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دے دیا
عدالت نے کہا کہ پولیس رولز 1934 کے تحت بھرتی کے وقت طبی معائنہ سخت ہونا ضروری ہے، تاہم جدید طبی سائنس اور ٹیکنالوجی کی روشنی میں بالخصوص بینائی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ہوم سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کو امیدوار کی بینائی کا دوبارہ معائنہ معذور افراد کے اسسمنٹ بورڈ سے کرانے کی ہدایت دی اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی کہ امیدوار کو معذوری کوٹے یا دفتری نوعیت کے کام کے لیے ایڈجسٹ کرنے پر غور کیا جائے۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت دیدی
عدالت نے واضح کیا کہ پولیس فورس میں فیلڈ ڈیوٹی کے لیے طبی موزونیت اور فٹنس لازمی شرط ہے، تاہم اداروں کو انسانی ہمدردی اور جدید طبی معیار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ عدالت نے بینائی کے معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدوار کی اپیل خارج کرتے ہوئے فیصلے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت پنجاب پولیس کانسٹیبل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت پنجاب پولیس کانسٹیبل
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔