data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-01-23
غزہ /تل ابیب /روم /پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فورسز کی غزہ میں بربریت تھم نہ سکی‘ تازہ حملوں میں مزید 4 فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 486 فلسطینی شہید،1 ہزار 341 زخمی ہو چکے، صہیونی حملوں میں 100 معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے، غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 71 ہزار 660 ہو گئی،1 لاکھ 71 ہزار 419 فلسطینی زخمی ہو چکے۔ ممکنہ طور پرسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد اسکولوں کو خالی کرا لیا، فلسطینی علاقوں میں کریک ڈاؤن اور زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رہا، اسرائیل نے رفاہ کراسنگ محدود طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا، کراسنگ سے صرف پیدل آمدورفت کی اجازت ہوگی۔ادھر حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غیرمسلح ہونے کے لیے ثالثوں کے سامنے نئی شرط رکھ دی۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے غزہ حکومت کے اپنے سرکاری ملازمین کو ایک خط بھیجا ہے۔ یہ خط رائٹرز نے دیکھا اور پڑھا ہے۔ جس میں40 ہزار سے زاید سرکاری ملازمین اور سیکورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ NCAG کے ساتھ تعاون کریں۔ حماس نے خط میں ملازمین کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو ٹرمپ منصوبے کے تحت بنائے گئے نئے انتظامی ڈھانچے میں شامل کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان ملازمین میں حماس کی تقریباً 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس بھی شامل ہے جو جنگ بندی کے بعد سے ان علاقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں حماس نے دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔ دوسری جانب حماس کے حمایت یافتہ مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس مطالبے کا علم ہے اور وہ اس پر صلاح مشورے کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے بقول ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس یہ مطالبہ امریکا کے سامنے رکھی گی جو غزہ میں ایک نیا فلسطینی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اٹلی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل کے سفیر کو طلب کر لیا۔ اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2 اطالوی فوجی پولیس اہلکاروں کو فیلڈ وزٹ کے دوران ایک مسلح اسرائیلی نے اسلحے کے زور پر روکا اور دھمکایا۔ خبر ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز رام اللہ کے قریب ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں اطالوی اہلکار یورپی یونین کے سفیروں کے مجوزہ دورے سے قبل مقام کا معائنہ کر رہے تھے۔ ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مسلح شخص، جسے ایک اسرائیلی آبادکار سمجھا جا رہا ہے، نے دونوں اطالوی اہلکاروں کو گن پوائنٹ پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ان سے غیر رسمی تفتیش کی گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق اہلکار ایک ایسی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس پر سفارتی نمبر پلیٹس لگی تھیں اور ان کے پاس سفارتی پاسپورٹس بھی موجود تھے۔ واقعے کے بعد اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کی ہدایت پر روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیا گیا تاکہ اس واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے پاکستان کے بورڈ آف پیس میں جانے کے خلاف قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کو مستردکرتے ہیں اور بورڈ آف پیس کی تشکیل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پاس قرارداد کے منافی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس میں غزہ کی لیڈر شپ کو نظر انداز کیا گیا، فلسطینی ریاست کے قیام کو پس پشت ڈال کراسرائیل کے عزائم کوتقویت دینے کی سازش ہے، پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین اور غزہ کی خودمختاری کی حمایت جاری رکھے اور اسرائیلی مظالم کے خلاف دو ٹوک اور اصولی مؤقف اختیار کرے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس میں اہلکاروں کو حملوں میں کے مطابق کیا ہے کر رہے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم