حماس کی ہتھیار ڈالنے کیلیے غیرمتوقع شرط‘ امریکا‘ اسرائیل سر جوڑ کر بیٹھ گئے,تازہ حملوں میں 3 فلسطینی شہید‘ 20 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-01-23
غزہ /تل ابیب /روم /پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فورسز کی غزہ میں بربریت تھم نہ سکی‘ تازہ حملوں میں مزید 4 فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 486 فلسطینی شہید،1 ہزار 341 زخمی ہو چکے، صہیونی حملوں میں 100 معصوم بچے لقمہ اجل بن گئے، غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 71 ہزار 660 ہو گئی،1 لاکھ 71 ہزار 419 فلسطینی زخمی ہو چکے۔ ممکنہ طور پرسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد اسکولوں کو خالی کرا لیا، فلسطینی علاقوں میں کریک ڈاؤن اور زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رہا، اسرائیل نے رفاہ کراسنگ محدود طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا، کراسنگ سے صرف پیدل آمدورفت کی اجازت ہوگی۔ادھر حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غیرمسلح ہونے کے لیے ثالثوں کے سامنے نئی شرط رکھ دی۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے غزہ حکومت کے اپنے سرکاری ملازمین کو ایک خط بھیجا ہے۔ یہ خط رائٹرز نے دیکھا اور پڑھا ہے۔ جس میں40 ہزار سے زاید سرکاری ملازمین اور سیکورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ NCAG کے ساتھ تعاون کریں۔ حماس نے خط میں ملازمین کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو ٹرمپ منصوبے کے تحت بنائے گئے نئے انتظامی ڈھانچے میں شامل کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان ملازمین میں حماس کی تقریباً 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس بھی شامل ہے جو جنگ بندی کے بعد سے ان علاقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں حماس نے دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔ دوسری جانب حماس کے حمایت یافتہ مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس مطالبے کا علم ہے اور وہ اس پر صلاح مشورے کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے بقول ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس یہ مطالبہ امریکا کے سامنے رکھی گی جو غزہ میں ایک نیا فلسطینی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اٹلی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل کے سفیر کو طلب کر لیا۔ اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق 2 اطالوی فوجی پولیس اہلکاروں کو فیلڈ وزٹ کے دوران ایک مسلح اسرائیلی نے اسلحے کے زور پر روکا اور دھمکایا۔ خبر ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز رام اللہ کے قریب ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں اطالوی اہلکار یورپی یونین کے سفیروں کے مجوزہ دورے سے قبل مقام کا معائنہ کر رہے تھے۔ ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مسلح شخص، جسے ایک اسرائیلی آبادکار سمجھا جا رہا ہے، نے دونوں اطالوی اہلکاروں کو گن پوائنٹ پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ان سے غیر رسمی تفتیش کی گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق اہلکار ایک ایسی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جس پر سفارتی نمبر پلیٹس لگی تھیں اور ان کے پاس سفارتی پاسپورٹس بھی موجود تھے۔ واقعے کے بعد اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کی ہدایت پر روم میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیا گیا تاکہ اس واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے پاکستان کے بورڈ آف پیس میں جانے کے خلاف قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کو مستردکرتے ہیں اور بورڈ آف پیس کی تشکیل اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پاس قرارداد کے منافی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس میں غزہ کی لیڈر شپ کو نظر انداز کیا گیا، فلسطینی ریاست کے قیام کو پس پشت ڈال کراسرائیل کے عزائم کوتقویت دینے کی سازش ہے، پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین اور غزہ کی خودمختاری کی حمایت جاری رکھے اور اسرائیلی مظالم کے خلاف دو ٹوک اور اصولی مؤقف اختیار کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس میں اہلکاروں کو حملوں میں کے مطابق کیا ہے کر رہے
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔