حماس: ہتھیار ڈالنے کے لیے ’غیرمتوقع شرط‘؛ امریکا اور اسرائیل سرجوڑ کر بیٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غیرمسلح ہونے کے لیے ثالثوں کے سامنے نئی شرط رکھ دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس نے غزہ حکومت کے اپنے سرکاری ملازمین کو ایک خط بھیجا ہے۔
خبررساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس خط کو دیکھا اور پڑھا ہے، جس میں 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ NCAG کے ساتھ تعاون کریں۔
حماس نے خط میں ملازمین کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو ٹرمپ منصوبے کے تحت بنائے گئے نئے انتظامی ڈھانچے میں شامل کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان ملازمین میں حماس کی تقریباً 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس بھی شامل ہے جو جنگ بندی کے بعد سے ان علاقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں حماس نے دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔
خیال رہے کہ ان پولیس اہلکاروں کی غزہ کی نئی انتظامیہ میں شمولیت کا یہ مطالبہ اس سے پہلے کبھی حماس کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے۔
رائٹرز نے اس معاملے پر اسرائیل کا مؤقف لینے کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے رابطہ کیا لیکن فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
چنانچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اسرائیل غزہ کے اِن سویلین اور سیکیورٹی اہلکاروں کی NCAG میں شمولیت کو قبول کرے گا یا نہیں۔
البتہ اسرائیل غزہ کے مستقبل میں حماس کے کسی بھی کردار کو سختی سے مسترد کرتا آیا ہے۔
دوسری جانب حماس کے حمایت یافتہ مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس مطالبے کا علم ہے اور وہ اس پر صلاح مشورے کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ میں حماس کی اپنی 10 ہزار رکنی پولیس فورس کو آئندہ انتظامی ڈھانچے میں شامل کرنے کی کوششیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب تنظیم کی اسرائیل کے ساتھ ہتھیار ڈالنے سے متعلق اہم بات چیت متوقع ہے۔
رائٹرز کے بقول ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس یہ مطالبہ امریکا کے سامنے رکھی گی جو غزہ میں ایک نیا فلسطینی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔
غزہ میں 2023 سے جاری جنگ کا خاتمہ امریکی صدر اور ثالثوں کی کوششوں سے گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ہوا تھا۔
اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس نے تمام اسرائیلی زندہ یرغمالیوں کو واپس کردیا جب کہ مر جانے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کردیں۔
جس کے بعد دوسرے مرحلے میں غزہ میں امورِ مملکت چلانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ایک بورڈ آف پیس تشکیل دیدیا گیا ہے۔
اس بورڈ کے تحت غزہ کا نظم و نسق ایک کمیٹی ’’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG)‘‘ کے حوالے کردیا جائے گا جو ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارہ ہوگا۔
اس طرح غزہ کے امورِ مملکت عملی طور پر امریکی نگرانی میں کام کرے گا اور جس میں حماس کی باضابطہ شمولیت شامل نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ حماس اب بھی غزہ کے تقریباً نصف علاقے پر عملی کنٹرول رکھتی ہے اور حماس چاہتی ہیں کہ اس کے سرکاری ملازمین اور اہلکار نئی انتظامیہ میں شامل ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حماس کی کے لیے کیا ہے غزہ کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم