جی بی پولیس کے برطرف اہلکاروں کو بحال کیا جائے، وزیر مملکت طلال چوہدری کو تحریری درخواست
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
فاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وفد کی بات غور سے سنی اور یقین دہانی کرائی کہ معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) گلگت بلتستان کے چیئرمین علاوالدین نے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شفیق الدین کے ہمراہ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران گلگت بلتستان پولیس کے ان اہلکاروں کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی جنہیں پُرامن احتجاج کے دوران نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ چیئرمین اگیگا علاو الدین نے وزیر مملکت کو اس حوالے سے ایک تحریری اپیل بھی پیش کی، جس میں متاثرہ پولیس اہلکاروں کی بحالی اور ان کے خلاف جاری تادیبی کارروائیوں پر نظرثانی کی درخواست کی گئی۔ چیئرمین اگیگا نے موقف اختیار کیا کہ پُرامن احتجاج آئینی حق ہے اور محض احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر ملازمتوں سے برطرفی ایک سخت اور ناانصافی پر مبنی اقدام ہے، جس سے متاثرہ اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو شدید معاشی اور ذہنی مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وفد کی بات غور سے سنی اور یقین دہانی کرائی کہ معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدام کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طلال چوہدری وزیر مملکت جائے گا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔