راولپنڈی(نیوز ڈیسک) آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام جاری ونٹر انٹرن شپ 2026 کو نوجوانوں کی فکری تربیت، قومی شعور کی بیداری اور اعتماد سازی کی ایک مؤثر کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ پروگرام نوجوانوں کو باصلاحیت، بااعتماد اور مثبت سوچ کا حامل بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم و سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ 2026 کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست کی، جس میں انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے فتنہ الہندوستان کے گمراہ کن بیانیے اور جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ شدت پسند عناصر نے بلوچستان کے بارے میں جھوٹے اور گمراہ کن بیانیے کے تحت مسلح گروہ اور جتھے تشکیل دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گروہ دلیل اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کی دلچسپی مفاہمت کے بجائے تصادم اور بدامنی میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے دشمن ان مسلح جتھوں کو جواب دینا ریاستی اداروں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں افواجِ پاکستان محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کے تحت فرائض انجام دے رہی ہے۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ ماضی کے برعکس آج بلوچستان میں ہزاروں اسکول، کالجز، درجنوں جامعات اور اسپتال فعال ہیں۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے کاروباری طبقہ اور سیاسی قیادت میں مقامی افراد نمایاں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں، جو صوبے کی ترقی کی واضح علامت ہے۔

انہوں نے افغانستان سے تجارت کے حوالے سے کہا کہ یہ صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے اور اسمگلنگ کے خاتمے سے فائدہ براہ راست پاکستانی عوام کو پہنچے گا۔

سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے زور دیا کہ بلوچستان میں مفاہمت، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے ریاست، میڈیا اور عوام سب کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق صرف عوام کے ذریعے شرپسند عناصر کے منفی بیانیے کا مؤثر تدارک اور پائیدار امن کا قیام ممکن ہے۔

نشست کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاک فوج فکری تربیت، تعلیم اور قومی سطح پر نوجوانوں کے مثبت کردار کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے، جبکہ آئی ایس پی آر کا ونٹر انٹرن شپ پروگرام اسی وژن کا عملی اظہار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آئی ایس پی آر انہوں نے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار