آئی ایس پی آر “ونٹر انٹرن شپ2026” نوجوانوں کی فکری تربیت اور شعورکو اجاگر کرنے کیلئے اہم اقدام
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک) آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام جاری ونٹر انٹرن شپ 2026 کو نوجوانوں کی فکری تربیت، قومی شعور کی بیداری اور اعتماد سازی کی ایک مؤثر کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ پروگرام نوجوانوں کو باصلاحیت، بااعتماد اور مثبت سوچ کا حامل بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم و سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ 2026 کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست کی، جس میں انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے فتنہ الہندوستان کے گمراہ کن بیانیے اور جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ شدت پسند عناصر نے بلوچستان کے بارے میں جھوٹے اور گمراہ کن بیانیے کے تحت مسلح گروہ اور جتھے تشکیل دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گروہ دلیل اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کی دلچسپی مفاہمت کے بجائے تصادم اور بدامنی میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے دشمن ان مسلح جتھوں کو جواب دینا ریاستی اداروں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں افواجِ پاکستان محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی کے تحت فرائض انجام دے رہی ہے۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ ماضی کے برعکس آج بلوچستان میں ہزاروں اسکول، کالجز، درجنوں جامعات اور اسپتال فعال ہیں۔ وفاقی حکومت کے تعاون سے کاروباری طبقہ اور سیاسی قیادت میں مقامی افراد نمایاں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں، جو صوبے کی ترقی کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے افغانستان سے تجارت کے حوالے سے کہا کہ یہ صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے اور اسمگلنگ کے خاتمے سے فائدہ براہ راست پاکستانی عوام کو پہنچے گا۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے زور دیا کہ بلوچستان میں مفاہمت، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے ریاست، میڈیا اور عوام سب کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق صرف عوام کے ذریعے شرپسند عناصر کے منفی بیانیے کا مؤثر تدارک اور پائیدار امن کا قیام ممکن ہے۔
نشست کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاک فوج فکری تربیت، تعلیم اور قومی سطح پر نوجوانوں کے مثبت کردار کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے، جبکہ آئی ایس پی آر کا ونٹر انٹرن شپ پروگرام اسی وژن کا عملی اظہار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آئی ایس پی آر انہوں نے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔