Jasarat News:
2026-07-23@23:32:22 GMT

آٹے کا بحران حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے‘ ادریس چوہان

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران حکومتی غفلت، ناقص پالیسیوں اور گندم کی بروقت فراہمی میں تاخیر کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عام آدمی بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مل مالکان کھلے بازار سے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو چکی ہے۔ احمد ادریس چوہان نے کہا کہ سرکاری گوداموں میں موجود لاکھوں ٹن گندم بروقت ریلیز نہ ہونے کے باعث خراب ہو جاتی ہے اور معیار میں کمی اور ناقص اسٹوریج سسٹم کے سبب قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے،جبکہ فلور ملز اور مارکیٹ کو وقت پر گندم نہ ملنے سے مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب حکومت ایک طرف عوام کو سبسڈی دینے کے دعوے کرتی ہے، مگر دوسری طرف گندم کے ذخائر کی ناقص مینجمنٹ اور تاخیر کی وجہ سے سبسڈی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں حکومت کو بھاری مالی نقصان اور عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے اور سرکاری گوداموں میں ذخیرہ شدہ گندم کی بروقت ریلیز، معیاری اسٹوریج اور شفاف تقسیم کے لیے جدید اور خودکار نظام متعارف کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر کی جانب سے متعدد بار اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر سال پیدا ہونے والے گندم و آٹے کے بحران سے بچنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت ایک مستقل اور موثر نظام قائم کیا جائے، جس میں حکومت، فلور ملز، تاجروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اور آنے والی گندم کی فصل کے پیش نظر فوری، واضح اور قابلِ عمل پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ مارکیٹ میں عدم استحکام، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکا جا سکے۔ قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ آٹا عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کا بحران حکومت کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی بدحالی اور عوامی اضطراب میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، ذمہ داران کا تعین کریں اور ایک موثر، شفاف اور دیرپا نظام کے ذریعے عوام کو مستقل ریلیف فراہم کریں۔

کامرس ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ادریس چوہان نے کہا کہ انہوں نے فلور ملز گندم کی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن