آٹے کا بحران حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے‘ ادریس چوہان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران حکومتی غفلت، ناقص پالیسیوں اور گندم کی بروقت فراہمی میں تاخیر کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عام آدمی بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مل مالکان کھلے بازار سے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو چکی ہے۔ احمد ادریس چوہان نے کہا کہ سرکاری گوداموں میں موجود لاکھوں ٹن گندم بروقت ریلیز نہ ہونے کے باعث خراب ہو جاتی ہے اور معیار میں کمی اور ناقص اسٹوریج سسٹم کے سبب قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے،جبکہ فلور ملز اور مارکیٹ کو وقت پر گندم نہ ملنے سے مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب حکومت ایک طرف عوام کو سبسڈی دینے کے دعوے کرتی ہے، مگر دوسری طرف گندم کے ذخائر کی ناقص مینجمنٹ اور تاخیر کی وجہ سے سبسڈی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں حکومت کو بھاری مالی نقصان اور عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے اور سرکاری گوداموں میں ذخیرہ شدہ گندم کی بروقت ریلیز، معیاری اسٹوریج اور شفاف تقسیم کے لیے جدید اور خودکار نظام متعارف کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر کی جانب سے متعدد بار اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر سال پیدا ہونے والے گندم و آٹے کے بحران سے بچنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت ایک مستقل اور موثر نظام قائم کیا جائے، جس میں حکومت، فلور ملز، تاجروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اور آنے والی گندم کی فصل کے پیش نظر فوری، واضح اور قابلِ عمل پالیسیاں بنائی جائیں تاکہ مارکیٹ میں عدم استحکام، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکا جا سکے۔ قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ آٹا عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کا بحران حکومت کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشی بدحالی اور عوامی اضطراب میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں، ذمہ داران کا تعین کریں اور ایک موثر، شفاف اور دیرپا نظام کے ذریعے عوام کو مستقل ریلیف فراہم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ادریس چوہان نے کہا کہ انہوں نے فلور ملز گندم کی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔