Express News:
2026-06-02@22:31:16 GMT

ہر دور کی اپوزیشن کا منفی کردار

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت پر حکومت پاکستان کے یکطرفہ فیصلے کی مخالفت اور معاہدے کی شرائط پبلک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غزہ امن بورڈ میں اہم مسلم ممالک سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا سمیت دیگر چھوٹے مسلمان ملکوں نے پاکستان کے فیصلے سے قبل ہی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کو یقین ہے کہ امن بورڈ میں اسرائیل بھی شامل ہے جو 70 ہزار فلسطینیوں کا قاتل ہے جس کی موجودگی میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر ہمارے وزیر اعظم مشاورت کر رہے ہوں گے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر جو پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر ملکی سیاست میں نمایاں ہوئے کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز امن بورڈ میں شمولیت کے باعث حماس کو غیر مسلح کرنے جائیں گی؟ بیرسٹر گوہر کو جس پارٹی کے بانی نے چیئرمین پی ٹی آئی مقرر کیا تھا ان پر مبینہ طور پر یہود نواز ہونے کا الزام ہے جس کا ثبوت یہ بھی دیا جاتا ہے کہ انھوں نے لندن کے میئر کے الیکشن میں ایک مسلمان صادق خان کے مقابلے میں اپنے سابق برادر نسبتی یہودی امیدوار کی حمایت کی تھی جن کی بہن کو انھوں نے طلاق دی تھی جس کے بعد بانی پی ٹی آئی کا اپنے سابق برادر نسبتی سے رشتہ ختم ہو گیا تھا اور بانی کو یہودی امیدوار کی بجائے مسلمان صادق خان کی حمایت کرنی چاہیے تھی یا غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا مگر بانی نے ایسا نہ کرکے خود کو متنازعہ بنا لیا تھا جس سے ظاہر ہے کہ ان کی ہمدردی اپنی سابقہ اہلیہ جمائمہ کے یہودی بھائی کے ساتھ تھی اور بانی لندن میں مسلمان میئر کی بجائے یہودی میئر کی حمایت کر رہے تھے جس کے لیے انھوں نے اپنے حامیوں کو یہودی امیدوار کو ووٹ دینے کو کہا ہوگا۔ یہودی امیدوار کی حمایت کرنے والے بانی پر یہ بھی مبینہ الزام ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے مقابلے میں ظالم اسرائیل کی سخت مخالفت یا اس کے مظالم کی مذمت نہیں کرتے جتنی انھیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے کرنی چاہیے تھی۔

اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت کو امن معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کے لیے قومی اسمبلی میں یہ معاملہ لانا چاہیے تھا مگر حکومت نے اس اہم معاملے پر اپوزیشن سے مشاورت ضروری نہیں سمجھی اور نہ غزہ کے سلسلے میں امن بورڈ کے مقاصد اور شرائط پبلک کیں تاکہ قوم بھی حقائق جان سکتی۔ ایک حد تک اپوزیشن کا موقف درست بھی ہے مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں رہنے والی کسی بھی حکومت نے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات میں خود کو عقل کل سمجھا نہ کبھی اپوزیشن کو اکثر اعتماد میں لینا گوارا کیا۔

حکومتوں کا تو یہ حال رہا ہے کہ وہ معاملات اپوزیشن سے چھپاتی رہی ہیں اور پارلیمنٹ میں اہم مسائل پر بھی بحث نہیں کرائی جاتی بلکہ اپنی کابینہ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور حکومتیں اپنے مفاد کو دیکھ کر ہی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرتی ہیں۔ اپوزیشن جب کبھی اپنے مفاد کے لیے اے پی سی کرتی ہے تو وہ بھی اپنی مرضی کی حامی یا حکومت مخالفین کو مدعو کرتی ہیں اور حکومتی پارٹیوں کو مدعو ہی نہیں کیا جاتا جس کی تازہ مثال اپوزیشن کی حالیہ اے پی سی تھی۔ حکومت اپنی اے پی سی میں مجبور ہو کر تمام بڑی اپوزیشن پارٹیوں کو مدعو تو کر لیتی ہے مگر اسے خوف ہوتا ہے کہ کہیں اپوزیشن اکثریت میں ہوکر حکومتی مقاصد کے حصول میں رکاوٹ نہ پیدا کر دے اور حکومت کو ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔

وزیر اعظم نواز شریف اپنی حکومت میں سعودی حکومت کی طرف سے یمن کے معاملے میں پاک فوج کی مدد کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرکے تجربہ حاصل کر چکے ہیں جب پارلیمنٹ نے حکومت کی خواہش کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس سے حکومت کو سعودی عرب کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات بھی متاثر ہوئے تھے۔

پی ٹی آئی بھول گئی ہے کہ اس کے وزیر اعظم نے ذاتی مفاد کے لیے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی سمری اپنی کابینہ تک سے چھپائی تھی اور ان کے مشیر شہزاد اکبر نے بند لفافہ کابینہ میں لہرا کر وزیر اعظم کی مرضی کے فیصلے کی منظوری لی تھی جس پر بعض وزیروں نے اعتراض بھی کیا تھا۔

بدقسمتی سے ملک میں ہر خودساختہ جمہوری حکومت میں اپوزیشن کا کردار کبھی اصولی نہیں بلکہ منفی رہا ہے اور پیپلز پارٹی، (ن) لیگ، (ق) لیگ، پی ٹی آئی کی حکومتوں میں اپوزیشن کا بنیادی اصول حکومت کے اچھے کام کی بھی مخالفت رہا ہے مگر جب بھی ذاتی مفاد کا معاملہ آیا تو حکومت اور تمام اپوزیشن نے مل کر منظوری دی اور اتحاد صرف اس وقت ہوا جب حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کا بل پیش کیا تو کسی نے مخالفت نہیں کی بلکہ سب نے یک زبان ہو کر اس کی متفقہ منظوری دی۔ ایسا مفاداتی بل کبھی متعلقہ کمیٹی کو بھیجا گیا نہ اس پر بحث ہوئی بلکہ فوری طور پر منظور کر لیا گیا جس کی ہر صدر مملکت نے بھی فوری توثیق کی اور کسی نے نہیں سوچا کہ اس مالی مفاد کے معاملے سے قومی خزانے پر کتنا بڑا مالی بوجھ بڑھے گا۔

ہر دور کی اپوزیشن نے کبھی ملکی مفاد کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہر معاملے پر سیاست چمکائی۔ ہر دور میں جب بھی صدر مملکت پارلیمنٹ سے خطاب کرنے آیا کسی اپوزیشن نے صدر کو تقریرکرنے نہیں دی، شور مچایا اور احتجاج جاری رکھا۔ وزیر اعظم کی تقریر نہ سننا، ہنگامہ آرائی، ہر بجٹ اجلاس میں بجٹ دستاویز پڑھنے کی بجائے پھاڑ کر لہرانا، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ ہر دور میں اپوزیشن کی اولین ترجیح رہی ہے۔

ہر حکومت من مانی کی عادی اور ہنگامہ آرائی اپوزیشن کا اصول اور ارکان پارلیمنٹ کی اجلاسوں سے غیر حاضری میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان دونوں برابر کے شریک رہتے ہیں جس کی وجہ سے کورم کا اکثر مسئلہ درپیش رہتا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اسپیکر اور چیئرمین اپوزیشن کو بولنے کا موقعہ نہیں دیتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یہودی امیدوار میں اپوزیشن اپوزیشن نے اپوزیشن کا پی ٹی آئی کی حمایت یہ بھی کے لیے

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟