حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ ہم 28ویں ترمیم میں آرٹیکل 140 اے کے معاملے پر حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، 1854 کا بلدیاتی نظام موجود ہے جس میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کے پاس اختیارات ہوتے ہیں، پاکستان کے آئین کے مطابق تین درجوں پر حقیقی جمہوریت وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں کے خواہاں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی اب سندھ کا دارلخلافہ نہیں لگتاہے کہ سندھ کا سارا پیسہ دبئی شفٹ ہوگیا۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنماء حیدر عباس رضوی نے ڈسٹرکٹ آفس حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ آرگنائزر ظفر احمد صدیقی و اراکین ڈسٹرکٹ کمیٹی، حق پرست اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سید وسیم حسین، رعنا انصار باجی، راشد خان ایڈوکیٹ، انجینئر صابر حسین قائمخانی، ناصر حسین قریشی بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ سے پہلے ایم کیو ایم نے کراچی بچاؤ مہم کا آغاز کیا تھا، اس مہم میں کراچی کے مسائل کو ہر اسمبلی میں اُجاگر کیا، لوگوں نے کہا اس مہم کا آغاز پورے سندھ کے لیے کیا جائے کیونکہ پورے سندھ کی حالت ایسی ہے، پاکستان میں بیک وقت آواز اٹھانے کی مہم شروع کی لوگوں سے کہا کہ سوشل میڈیا پر مسائل اپلوڈ کریں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سندھ پر قابض ہوکر اپنی حکومت چلانا چاہتی ہے، حکومت سندھ نہیں چاہتی کہ سندھ میں مضبوط اور آزاد بلدیاتی حکومت قائم ہو، پچھلے پندرہ برس میں این ایف سی سے پچیس ہزار ارب وصول کرکے خرچ کیے جانے والی حکومت کے کارنامے عوام کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ 650 عمارتوں کی سروے رپورٹ نااھلی سبب دو سال میں مئیر آفس سے سی ایم آفس میں آڈٹ رپورٹ کو دو سال لگ گئے، ہم 28ویں ترمیم میں آرٹیکل 140 اے کے معاملے پر حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، 1854 کا بلدیاتی نظام موجود ہے جس میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کے پاس اختیارات ہوتے ہیں، پاکستان کے آئین کے مطابق تین درجوں پر حقیقی جمہوریت وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتیں کے خواہاں ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے یہاں کی تباہی آپ کے سامنے ہے، جو تباہی کراچی میں ہوئی وہی حیدرآباد میں ہوئی، حیدرآباد میں میڈیکل کالج غیر سنجیدگی کی وجہ سے شروع نہیں کیا جارہا ہے، ایک یونیورسٹی وفاق کے پیسوں سے آئی، کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع و گاؤں زندگی کی بنیادی سہولیات سے اکیس ویں صدی میں بھی محروم ہیں، پاکستان میں تین درجوں پر حکومت کو دیکھنا چاہتے ہیں، آگ اور پانی ایک جگہ نہیں ہوسکتے، جب کوئی کسی کو اپنا سمجھتا ہے تو دیوانہ وار بھاگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو میں بھی تحقیقاتی کمیٹی کیا کررہی ہے ملبے کے ٹرک چوری ہوگئے، یہ چوری ہورہے ہیں یا کروائے جارہے ہیں، گل پلازہ ایک کرائم سین ہے، واہ! بہت خوب آپ موردِ الزام ہیں، آپ ہی مدعی آپ ہی منصف اور آپ ہی تحقیقات کار سندھ حکومت مطلق العنان ہے۔

انہوں نے کہا کہ چالان کے لیے روبوٹس تھے لیکن آگ سے بچنے کا سامان نہیں تھا، آگ لگی یا لگائی گئی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء میں ایم کیو ایم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی فروغ نسیم کی سربراہی میں آئین پاکستان میں کوئی بھی شہر وفاق کی حیثیت دے سکتا ہے، غلطی شاید قائداعظم کی ہے کہ انہوں نے پاکستان کو لیز کرالیا جہاں کمشنر گورنر کو منع کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئر مین ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو خط لکھا ہے جس میں ایک آزاد کمیشن کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار تو بھاری پروٹوکول کے ساتھ بھی جائے وقوعہ نہیں پہنچے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کہ سندھ سندھ کا

پڑھیں:

مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے

لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا