جمیعت علما اسلام (جے یو آئی) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت گرانے میں اہم کردار نبھانے والی جے یو آئی کو بھی اب پی ٹی آئی کی طرح مائنس کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری: حکومت اب کسی تعاون کی امید نہ رکھے، رہنما جے یو آئی کامران مرتضیٰ

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنہ 2018 کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی نے تن تنہا احتجاج کا آغاز کیا تھا بعد ازاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس اتحاد میں شامل ہوئیں اور کارواں آگے بڑھتا گیا اور نتیجے میں ایک حکومت کا تختہ الٹا گیا اور نئی حکومت تشکیل دی گئی جس میں جے یو آئی بھی شامل تھی لیکن بعد میں پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ جے یو آئی کو بھی مائنس کر دیا گیا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جب حکومتوں کے پاس عددی برتری مکمل ہو جاتی ہے تو وہ کسی اور جماعت کو اہمیت نہیں دیتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال 27ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی رہی جس میں نہ ہم سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن ہمیں اس حوالے سے اطلاع تک نہیں دی گئی۔

مزید پڑھیے: جے یو آئی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کو حکومتی مکاری قرار دیدیا

رہنما جے یو آئی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے موقعے پر جے یو آئی نے حکومت کا ساتھ ضرور دیا تھا تاہم ہم نے حکومت کی 50 سے زائد مجوزہ ترامیم کو کم کروا کے صرف 20 سے 22 ترامیم منظور ہونے دی تھیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جمیعت علما اسلام اس وقت کسی بڑے احتجاج کی تیاری اس لیے نہیں کر رہی کہ ماضی میں جے یو آئی کے احتجاج اور حکومت پر دباؤ کا فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا اور اب یہ خدشہ ہے کہ کہیں پی ٹی آئی اس سے فائدہ نہ اٹھا لے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے احتجاج کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں فائدہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے اٹھایا جبکہ ہم لوگ باہر کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی بنانے پر اتفاق

کامران مرتضیٰ نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت میں کوئی نظم و ضبط نہیں یہ محض ون مین شو ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مقبولیت بھی زیادہ نہیں بلکہ عمران خان کی ذات تک محدود ہے جبکہ جے یو آئی ایک منظم جماعت ہے جو محلے کی سطح سے شروع ہو کر اوپر تک مضبوط تنظیم رکھتی ہے اور یہ کسی ایک شخصیت کے گرد نہیں گھومتی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ان کی جماعت کا ووٹ بینک ماضی میں کمزور رہا ہے تاہم فرخ کھوکھر کی شمولیت سے جماعت کو تقویت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: کیا فرخ کھوکھر کو بطور ’اے ٹی ایم‘ پارٹی میں شامل کیا؟ رہنما جے یو آئی کامران مرتضیٰ نے واضح کردیا

انہوں نے کہا کہ فرخ کھوکھر کے خلاف کوئی مقدمہ یا کیس نہیں ہے اور وہ باقاعدگی سے 5 وقت کی نماز پڑھتے ہیں جبکہ ہم سے تو کبھی کبھار کوئی ایک نماز رہ بھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان تحریک انصاف جے یو آئی جے یو آئی مائنس سینیٹر کامران مرتضیٰ مولانا فضل الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف جے یو ا ئی جے یو ا ئی مائنس سینیٹر کامران مرتضی مولانا فضل الرحمان سینیٹر کامران مرتضی انہوں نے کہا کہ جے یو ا ئی جے یو آئی

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار