پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر روضہ رسولﷺ بھیجنے کا فیصلہ، پاکستانی عوام کا سلام پیش کیا جائے گا!
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر سعودی عرب بھیجا جائے گا جہاں وہ روضہ رسولﷺ پر حاضری دے کر عوام کی طرف سے حضور اقدس ﷺ کو سلام پیش کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی کی صدارت میں ہوا جس میں روضہ رسولﷺ پر عوام کا سلام پیش کرنے کے لیے سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد بھیجنے کا مطالبہ کیا، جس کو مان لیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی نے شرکا کو بتایا کہ حاضری کے لیے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے گا جو پاکستانی عوام کی طرف سے روضہ رسولﷺ پر سلام پیش کرے گا، نوافل بھی ادا کرے گا، وفد پہلے بھی پاکستانی عوام کی طرف سے سلام کرنے جاچکا ہے،
پارلیمانی وفد ہر برس مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائے گا، وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ہمراہ جاسکیں گے, عوام کی طرف سے وفد مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرے گا، اسپیکر کی عدم موجودگی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی وفد کی سربراہی کریں گے۔
رکن کمیٹی اعجاز الحق نے بتایا کہ وفد کے ارکان کی تعداد 7 سے بڑھا کر 10 کرنے کی تجویز دیتا ہوں۔ رکن ثمینہ گھرکی نے کہا کہ وفد کی تعداد کم ہونے پر باقی ارکان میں غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفد کے لیے تعداد کی شرط 7 کے بجائے 10 کی جائے، اسپیکر ہی وفد کے ارکان نامزد کریں گے، اسپیکر کی غیر موجودگی میں چیئرمین بھی وفد کی سربراہی کر سکیں گے۔
رکن کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہا کہ اسپیکر صاحب 15,15 لوگوں کے وفود لے کر جاتے ہیں، اس پارلیمانی وفد کے اخراجات قومی اسمبلی اٹھائے، اگر ہم خرچ خود اٹھاتے ہیں تو اسے ڈیلی گیشن کا نام نہیں دے سکتے خود تو ہم کبھی بھی جاسکتے ہیں۔
کمیٹی ارکان نے حمایت کی اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں قومی اسمبلی یہ خرچ اٹھائے، پاکستان ہاؤس کی سعودی عرب میں تعمیر تک وفد کو سرکاری خرچ پر ہوٹل میں ٹھہرایا جائے، وفد کو قومی اسمبلی کی چھتری تلے لانا چاہتے ہیں۔
شگفتہ جمانی نے کہا کہ اگر وفد کے شرکا اپنی بیوی شوہر یا کسی رشتہ دار کو لے جانا چاہتے ہیں تو؟ اس پر کمیٹی نے کہا کہ رشتے داروں کو سرکاری وفد میں لے جانے پر خود اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ وفد کو اسٹیٹ گیسٹ ڈکلیئرڈ کرنے کے لیے دفتر خارجہ کے نمائندے کو بلایا جائے۔
وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ وزارت مذہبی امور وفد کو ممکنہ سہولیات فراہم کرے گی، مکہ و مدینہ منورہ میں میڈیکل اور دیگر سہولیات کا اہتمام ہوگا۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستانی حکومت حج ڈائریکٹ جدہ ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرے گی، وفد کے لیے لائژن افسر بھی تعینات کیا جائے گا، زیارت، آداب بارگاہ نبویؐ اور عمرہ طریقہ کار پر وفد کی رہنمائی کی جائے گی، وزارت مذہبی امور دورے کی بھرپور میڈیا کوریج کرے، اہلِ خانہ سرکاری وفد میں ساتھ لانے پر اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، پاکستان ہاؤس کی تعمیر تک ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا جائے۔
چئیرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اسپیکر کے نام وفاقی وزیر مذہبی امور خط لکھیں، خط میں اسپیکر سے وفد کے تمام اخراجات اٹھانے کی درخواست کی جائے۔
وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کمیٹی کی تجاویز کی حمایت کردی۔ سردار یوسف نے کہا کہ قومی اسمبلی وفد کا اہتمام کرے اور اس کے لیے وزارت مذہبی امور پر ممکن سہولت فراہم کرے گی، وفد کا جانا اعزاز کی بات ہے، وفد کے سرکاری خرچ پر جانےمیں کیا حرج ہے، وفد قوم کی طرف سے سلام کرنے جائے گا، روضہ رسولﷺ پر وفد درود و سلام پیش کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روضہ رسولﷺ پر پارلیمانی وفد عوام کی طرف سے سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کو سرکاری نے کہا کہ کمیٹی نے سلام پیش جائے گا کے لیے وفد کے وفد کو وفد کی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔