data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نارتھ کراچی 5C-1میں ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے 27 سالہ شاہ زیب کے والد شاہ نواز سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات اور جواں سال بیٹے کی موت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت ،لواحقین وپسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ملاقات میں سیکرٹری ضلع شمالی شکیل احمد، وائس ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی شعیب بن ظہر اور سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری ،دیگر علاقائی ذمے داران اور کونسلرز بھی موجود تھے۔ اس موقع پر منعم ظفر خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ شہر میں آئے روز ڈمپرز اور ٹینکرز کی ٹکر کے باعث حادثات میں اضافہ اور شہری اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہورہے ہیں جو حکومتی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ افسوسناک واقعہ الہدیٰ مسجد پاور ہاؤس چورنگی پر پیش آیا جس میں ایک اور نوجوان عمر شدید زخمی ہوا جس کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوچکی ہیں اور وہ زندگی بھر کے لیے اپاہج بن چکا ہے۔ یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے کراچی کا سانحہ ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں شہری ایک طرف اسٹریٹ کرائم کا شکار اور دوسری طرف خونی ڈمپر اور واٹر ٹینکر موت کا باعث بن رہے ہیں۔ شہری گھروں سے نکلتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ واپس زندہ لوٹیں گے یا نہیں۔ شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، نہ صوبائی حکومت کو ہوش ہے اور نہ حکومتی ادارے ذمے داری ادا کررہے ہیں۔ ڈمپر اور ٹینکر مافیا کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، یہ بھاری گاڑیاں دن دہاڑے شہر کی سڑکوں پر دندناتی پھرتی ہیں، نہ ان کے ڈرائیوروں کے پاس لائسنس ہوتے ہیں اور نہ گاڑیوں کی فٹنس چیک کی جاتی ہے۔ پولیس اور ٹریفک پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔منعم ظفر خان نے سندھ حکومت بتائے کہ آخر کب تک کراچی کے عوام لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ ہر چند دن بعد کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی اور کسی گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے لیکن حکومت کی نیند ختم نہیں ہوتی ۔حکومت فوری طور پر ہیوی ٹریفک کے اوقات پر عمل درآمد کرائے، جماعت اسلامی متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے ساتھ ہر فورم پر انصاف کے لیے آواز بلند کرے گی۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے