سانحہ گل پلازہ :سندھ کابینہ کی متاثرہ دکانداروں کو فی کس ایک ‘ایک کروڑ قرض فراہمی کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-08-25
کراچی (اسٹاف ر پورٹر) سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گل پلازہ سانحے کے متاثرین کیلیے امداد و بحالی کے جامع پیکیج کی منظوری دی گئی، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد مزید ضروری کارروائی کے لیے وزیر اعلیٰ کے زیراہتمام ایک اعلیٰ سطح کی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ اجلاس کے آغاز میں کابینہ نے گل پلازہ سانحے کے شہدا کیلیے فاتحہ خوانی کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنا اور ساتھ ہی احتساب کو یقینی بنانا ہے۔ انسانی جان پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ امداد، انصاف اور روک تھام ساتھ ساتھ چلیں گے۔ کابینہ نے گل پلازہ واقعے میں جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جامع معاوضہ اور بحالی پیکج کی منظوری دی۔ مرحومین کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی معاوضہ دیا جائے گا۔ متاثرہ تاجروں کی معاونت کیلیے کابینہ نے ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کے بغیر سود قرض کی منظوری دی جس کی سود کی لاگت سندھ حکومت برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ ہر دکاندار کو 5 لاکھ روپے فوری معاشی امداد کے طور پر دیے جائیں گے تاکہ گھریلو اور یوٹیلیٹی اخراجات پورے کیے جاسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ دکانداروں کو 2 ماہ کے اندر متبادل تجارتی جگہیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں جس کی کابینہ نے بھی منظوری دی۔ کابینہ اجلاس میں ایک اعلیٰ سطح کی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تاکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے کر ذمہ داری عاید کرنے اور انصاف فراہم کرنے کو یقینی بنایا جا سکے،ذیلی کمیٹیمیں وزیر شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ضیاء الحق لنجار شامل ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ نے کمشنر کراچی حسن نقوی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں آئی جی کراچی آزاد خان اور دیگر شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئی غفلت نظر انداز نہیں کی جائے گی، جو بھی ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی منظوری وزیر اعلی کابینہ نے گل پلازہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔