میرپورخاص، 77کروڑ روپے کی لاگت کا منصوبہ التوا کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت) 77 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا جانے والا منصوبہ 3 برس میں بھی ادھورا رہا ، جمڑائو کینال سے نکلنے والی جرواری مائنز کا کام 3 برس بعد بھی مکمل نہ ہوسکا ،نہر گندے نالے کی صورت اختیار کرگئی۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص شہریوں اورآبادگاروں کو پانی فراہم کرنے والی جرواری شاخ کو 77کروڑ روپے کی لاگت سے پختہ کرنے کا منصوبہ 3 برس قبل شروع کیا گیا تھا جسے دوسال میں مکمل ہونا تھا تاہم اب تک نصف کام بھی مکمل نہیں ہوسکاہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے محکمہ آبپاشی کے ایک ذمہ دارافسر کا کہنا ہے کہ شاخ کے اطراف موجود تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تحریری درخواست دی گئی تھی جس پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے منصوبہ التوا کا شکار ہے اس تمام صورتحال میں نہر کے آس پاس لاتعداد گھروں کے ڈرینج کے پائپ نہر میں ڈالے گئے ہیں عدالتی احکامات کے باوجود نہر کے اطراف قبضے خالی نہ کرانے کے سبب کام التوا کا شکار ہے۔ واضح رہے کہ گندگی اور غلاظت سے بھری جرواری شاخ سے شہریوں کو واٹر سپلائی تالاب کے ذریعے سے پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب منصوبہ کے حوالے سے بڑے پیمانے پر کرپشن کی بھی باز گشت بھی سنی جارہی ہے اس تمام صورتحال میں جرواری نہر پختہ نہ ہونے کے سبب ایک گندے نالے کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں آس پاس کی آبادی کے گندے پانی کے پائپ بھی نہر میں چھوڑ دیے گئے ہیں جس سے شہریوں میں امراض بھی پھیل رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔