دہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس محب وطن نہیں ہوسکتے ، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ دہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس، سرکاری افسران اور سیاست دان کبھی بھی ملک و قوم کے ساتھ مخلص اور محب وطن ثابت نہیں ہو سکتے۔ جن لوگوں کے مفادات بیرونِ ملک وابستہ ہوں، وہ پاکستان کے غریب عوام کی تکالیف، مہنگائی کی شدت اور روزمرہ مسائل کا حقیقی ادراک نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ آج عوام بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، آٹا، چینی، دالیں، گھی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں تو دوسری جانب بے روزگاری اور کم ہوتی آمدن نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ جن افسران اور حکمرانوں کے بچے بیرونِ ملک پڑھتے ہوں، جن کی جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس باہر ہوں، وہ عوامی مسائل کے حل میں کبھی سنجیدہ نہیں ہو سکتے۔ انہیں نہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت کا اندازہ ہے اور نہ ہی سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کی فکر۔ وہ عام شہری کی طرح مہنگی بجلی کے بل، گیس کی لوڈشیڈنگ اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا نہیں کرتے، اس لیے ان کی پالیسیاں ہمیشہ عوام دشمن ثابت ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو ریاستی اختیارات دینا قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ایسے لوگ مشکل وقت میں ملک چھوڑنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے، جبکہ غریب عوام ہر بحران میں یہی رہتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مطالبہ کیا کہ تمام حساس اور فیصلہ ساز سرکاری عہدوں پر صرف وہی افراد تعینات کیے جائیں جو مکمل طور پر پاکستان کے وفادار ہوں اور جن کے مفادات صرف اور صرف اس ملک سے وابستہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی اور مہنگائی، بدانتظامی اور کرپشن کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، مہنگائی پر قابو پایا جائے اور قومی مفاد کے خلاف فیصلے واپس لیے جائیں، ورنہ عوام میں بڑھتی بے چینی کسی بڑے ردعمل کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔