عوام اور صنعت کو ریلیف دینے کیلئے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرینگے: وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے کچھ شعبوں میں رعایتیں لینے کی تیاری ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف اور توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ازسرنو ترجیحات متعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صنعتوں اور بڑی کمپنیوں کیلئے سپر ٹیکس اور پاور ٹیرف میں کمی کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، تیسرا اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دلانے کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھی معاملے پر بات چیت کی وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلئے آئندہ دو ہفتوں میں تجاویز مانگ لی ہیں۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی ٹھوس حکمت عملی پر کام شروع کر دیا گیا۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ریلیف کے متبادل کے طور پر ٹیکس نیٹ بڑھانے سے متعلق تجاویز مانگ لی ہیں جس پر ایف بی آر کو رواں مالی سال دیگر ذرائع سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے اور رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ کی آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی استحکام برقرار ہے اور موجودہ مالی سال 26-2025 میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے بتایا کہ مہنگائی قابو میں ہے اور ایل ایس ایم کی نمو میں واضح بہتری آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کے باعث مالی اور پرائمری سرپلس حاصل ہوا جبکہ ایل ایس ایم میں تیزی اور آئندہ مہینوں میں بہتر نمو کی امید ہے۔ اسی طرح ترسیلات زر مضبوط ہوا اور بیرونی کھاتوں کو سہارا ملا ہے، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں بڑی صنعتوں اور دیگر معاشی اشاریوں کی کارکردگی حوصلہ افزا قرار دی گئی ہے اور وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دانش مندانہ پالیسیوں‘ ترسیلات زر اور آئی ٹی و سروسز برآمدات میں اضافہ ہوا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باعث مانیٹری پالیسی میں نرمی آئی تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے مگر دباؤ محدود رہنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف سے ئی ایم ایف سے ا ئی ایم ایف کے مطابق ہے اور
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔