وزارت خزانہ کا آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-08-23
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات آئندہ ماہ متوقع ہیں جس کیلیے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔تیسرے اقتصادی جائزہ کی تکمیل کی صورت میں پاکستان کوایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی، ذرائع کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزہ کیلیے تیاری تیز کردی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیٹا بھی شیئر کردیا ہے۔وزارت خزانہ نے وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، تیسرا اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔وزارت خزانہ حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دلانے کیلیے آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھی معاملے پر بات چیت کی وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلیے آئندہ دو ہفتے میں تجاویز مانگ لی ہیں۔آئی ایم ایف کو ریلیف پر منانے کے لیے ٹھوس تجاویز اور سفارشات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات کم کرنے کیلیے ریلیف سے متعلق تجاویز طلب کرلی گئی۔آئی ایم ایف سے مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی کیلیے ریلیف حاصل کرنے کی ٹھوس حکمت عملی پر کام شروع کردیا گیاآئی ایم ایف سے مذاکرات میں تیز معاشی ترقی کیلیے پلان پیش کیا جائے گا۔ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے ریلیف کے متبادل کے طور پر ٹیکس نیٹ بڑھانے سے متعلق تجاویز مانگ لی ہیں جس پر ایف بی آر کو رواں مالی سال دیگر ذرائع سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف سے مذاکرات کے مطابق
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔