وزارتِ خزانہ کا آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وزارتِ خزانہ کا آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات آئندہ ماہ متوقع ہیں جس کیلئے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔تیسرے اقتصادی جائزہ کی تکمیل کی صورت میں پاکستان کوایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی، ذرائع کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزہ کیلئے تیاری تیز کردی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیٹا بھی شیئر کردیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، تیسرا اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔وزارت خزانہ حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دلانے کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھی معاملے پر بات چیت کی وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلئے آئندہ دو ہفتوں میں تجاویز مانگ لی ہیں۔آئی ایم ایف کو ریلیف پر منانے کے لیے ٹھوس تجاویز اور سفارشات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے صعنتی شعبے کو درپش مشکلات کم کرنے کیلیے ریلیف سے متعلق تجاویز طلب کرلی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکے پی ،مالی بے قاعدگیاں،غیر ضروری اخراجات،انسانی سرمایہ کاری کا منصوبہ ناکام کے پی ،مالی بے قاعدگیاں،غیر ضروری اخراجات،انسانی سرمایہ کاری کا منصوبہ ناکام کے پی حکومت کے ٹی ٹی پی سے مفادات , نقل مکانی کا ملبہ فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے،وفاق , جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا قبضہ ہے: پاکستان وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس درست قرار دے دیا, ہائیکورٹس کا فیصلہ جزوی کالعدم افغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، انوار الحق کاکڑ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔