اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ  میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ، وہاں پر برفباری اور سخت موسم کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے ہوتی آرہی ہے، وادی تیراہ میں اس وقت بھی 500 سے زائد ٹی ٹی پی کے لوگ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔ مشیران جرگہ اور صوبائی حکومت کے مابین تین ملاقاتوں کے بعد 5 ارب روپے اس نقل مکانی کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سارے عمل میں پاک فوج کہیں بھی نہیں ہے ۔ وادی تیراہ کے 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کاشت ہو رہی ہے اور اسکا منافع بھی ٹی ٹی پی کو جا رہا ہے، پی ٹی آئی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاک فوج  پر ڈالنا چاہتی ہے، کے پی حکومت  وادی تیراہ سمیت 7 وادیوں کے لوگوں کی مشکلات کو اپنی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرے۔ وہ منگل کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ  اور وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر اطلاعات برائے خیبر پی  کے اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کے ساتھ وادی تیراہ سمیت 7 وادیاں ایسی ہیں جہاں پر ہر سال برفباری کے سیزن میں لوگ 4 سے 5 ماہ کے لئے نقل مکانی کرتے ہیں اور اس سال بھی وادی تیراہ کے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اس سے قبل مشیران جرگہ کے لوگوں نے کے پی حکومت کے ساتھ11 دسمبر، 24 دسمبر اور پھر 26 دسمبر  کو ملاقاتیں ہوئیں اسی کی روشنی میں کے پی حکومت نے 4 ارب روپے  کا مائیگریشن پیکج بھی مختص کیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔ یہ میشران پہلے ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے اور اتفاق رائے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا  اور صوبائی حکومت  نے اپنے وزیراعلیٰ کو اس حوالے سے بتانا پسند نہیں کیا تو اس  میں ہمارا کیا قصور بنتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ملٹری آپریشنز کے دوران زیادہ نقصانات ہوتے ہیں، اس لئے کافی وقت پہلے پاک فوج نے آپریشنز کی بجائے مخصوص انفارمیشن بیسڈ آپریشن شروع کر دیئے ہیں جہاں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہوتی ہے وہاں پر آئی بی او ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تو یقین دہانی کرائی تھی کہ وادی تیراہ سمیت سات وادیوں میں ہسپتال، پولیس سٹیشن، تعلیمی ادارے بنائے گی لیکن ابھی تک کچھ نہیں دیا گیا۔ اس  علاقے کے لوگوں کو۔ وادی تیراہ واحد  علاقہ ہے جہاں ایک سال 12ہزار ایکڑ اراضی پر بھنگ استعمال ہوتی ہے، ٹی ٹی پی اس کا منافع کھا رہی ہے ، کے پی کے حکومت اور ٹی ٹی پی  کے ساتھ ملکر اس سورس کو استعمال کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر برائے اطلاعات، خیبر پی کے نے کہا کہ پی ٹی آئی دراصل 4 ارب روپے ہڑپنے کے لئے یہ ڈرامہ  رچا رہی ہے۔ وہ ایسے ہی پراجیکٹ بناتے ہیں اور اس میں سے کمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے ہجرت  میں پاک فوج  کہیں  بھی نہیں ہے بلاوجہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی ہجرت کے بارے میں نوٹیفکیشن کے پی حکومت کا اپنا ہے اس سے وفاقی حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کے پی حکومت کے سرکردہ لوگ معمول کے ساتھ ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں، اس وقت بھی وادی تیراہ میں جو 500 ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یہ وہ ہی ہیں جو 2021ء میں دوبارہ کے پی کے میں لاکر بسائے گئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ علاقوں کے  فیصلے کی واپسی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ دو، تین سالوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے پاک فوج کے افسران، جوانوں کی شہادت اور جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کے قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں، خیبر پی  کے کے ترجمان اس حوالے سے بے بنیاد بیان بازیوں میں مصروف ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پی کے اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر کے آفریدی اور اکاخیل قبائل دیگر قبائل سے مختلف ہیں، ماضی گواہ ہے کہ ضلع خیبر کے قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں، یہ قبائل گرمیوں میں واپس تیراہ کے علاقے میں آ جاتے ہیں، خیبر پی کے کے ترجمان اس حوالے سے بے بنیاد بیان بازیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ایڈورڈ اے مرفی کی کتاب ’’دی خیبر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب 1899ء میں شائع ہوئی جس میں آفیشل گزیٹیئر کا حوالہ دیا گیا ہے، اس میں 1880ء میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ مذکورہ قبائل سردیوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، عالمی سطح پر شائع ہونے والی اس کتاب میں اس کا باقاعدہ ذکر موجود ہے، گزیٹیئر سے ہمیں مکمل تاریخ دستیاب ہوتی ہے۔ جو سردی ماضی میں اکتوبر میں شروع ہوتی تھی، اب موسمی تبدیلیوں کے باعث اس کا دورانیہ تبدیل ہو چکا ہے اس وقت جنوری کے آخر میں برف باری ہو رہی ہے حالانکہ ماضی میں نومبر میں برف باری ہو جاتی تھی، خیبر پی کے حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق خیبر کے قبائل رضاکارانہ طور پر جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ یہ بات درست ہے ماضی میں جو لوگ لائے گئے وہ سرحدی علاقوں میں بسے۔ کوئی پتا نہیں چار سال پہلے وہ بھتا اسلام آباد بھی آتا ہو۔ یہ صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔ چار ارب کا صوبائی پیکج کن لوگوں کی جیبوں میں گیا۔‘ تفتیش کر لیں۔ یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔ ہمیں جہاں اطلاع ملی ہے وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔ نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے وہ واپس لے لیں۔ وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ دہشتگردی کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں۔ سالانہ ہجرت معمول ہے۔ مشران نے پھر وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی سے ملاقات کی۔ حکومت صحافیوں کو وادی کی صورتحال دکھانے کیلئے لے جا سکتی ہے۔ وادی تیراہ میں ٹی ٹی پی موجود ہے۔ فورسز انفارمیشن بیسڈ آپریشن کرتی ہے۔ علاقے کو خالی کروا کر کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ صوبائی حکومت اور جرگے سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں سکول اور تھانے قائم کئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آرہی۔ خیبر پی کے حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا وجود نہیں۔ تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان