وادی تیراہ: کے پی حکومت اپنی ناکامیاں فوج پر ڈالنا چاہتی ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ، وہاں پر برفباری اور سخت موسم کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی معمول کا حصہ ہے جو کئی دہائیوں سے ہوتی آرہی ہے، وادی تیراہ میں اس وقت بھی 500 سے زائد ٹی ٹی پی کے لوگ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ رہ رہے ہیں۔ مشیران جرگہ اور صوبائی حکومت کے مابین تین ملاقاتوں کے بعد 5 ارب روپے اس نقل مکانی کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سارے عمل میں پاک فوج کہیں بھی نہیں ہے ۔ وادی تیراہ کے 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کاشت ہو رہی ہے اور اسکا منافع بھی ٹی ٹی پی کو جا رہا ہے، پی ٹی آئی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاک فوج پر ڈالنا چاہتی ہے، کے پی حکومت وادی تیراہ سمیت 7 وادیوں کے لوگوں کی مشکلات کو اپنی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرنے سے گریز کرے۔ وہ منگل کو پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر اطلاعات برائے خیبر پی کے اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کے ساتھ وادی تیراہ سمیت 7 وادیاں ایسی ہیں جہاں پر ہر سال برفباری کے سیزن میں لوگ 4 سے 5 ماہ کے لئے نقل مکانی کرتے ہیں اور اس سال بھی وادی تیراہ کے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اس سے قبل مشیران جرگہ کے لوگوں نے کے پی حکومت کے ساتھ11 دسمبر، 24 دسمبر اور پھر 26 دسمبر کو ملاقاتیں ہوئیں اسی کی روشنی میں کے پی حکومت نے 4 ارب روپے کا مائیگریشن پیکج بھی مختص کیا اور نوٹیفکیشن بھی جاری کیا۔ یہ میشران پہلے ٹی ٹی پی کے پاس بھی گئے اور اتفاق رائے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا اور صوبائی حکومت نے اپنے وزیراعلیٰ کو اس حوالے سے بتانا پسند نہیں کیا تو اس میں ہمارا کیا قصور بنتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ملٹری آپریشنز کے دوران زیادہ نقصانات ہوتے ہیں، اس لئے کافی وقت پہلے پاک فوج نے آپریشنز کی بجائے مخصوص انفارمیشن بیسڈ آپریشن شروع کر دیئے ہیں جہاں بھی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہوتی ہے وہاں پر آئی بی او ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تو یقین دہانی کرائی تھی کہ وادی تیراہ سمیت سات وادیوں میں ہسپتال، پولیس سٹیشن، تعلیمی ادارے بنائے گی لیکن ابھی تک کچھ نہیں دیا گیا۔ اس علاقے کے لوگوں کو۔ وادی تیراہ واحد علاقہ ہے جہاں ایک سال 12ہزار ایکڑ اراضی پر بھنگ استعمال ہوتی ہے، ٹی ٹی پی اس کا منافع کھا رہی ہے ، کے پی کے حکومت اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ملکر اس سورس کو استعمال کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے کوآرڈنیٹر برائے اطلاعات، خیبر پی کے نے کہا کہ پی ٹی آئی دراصل 4 ارب روپے ہڑپنے کے لئے یہ ڈرامہ رچا رہی ہے۔ وہ ایسے ہی پراجیکٹ بناتے ہیں اور اس میں سے کمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے ہجرت میں پاک فوج کہیں بھی نہیں ہے بلاوجہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی ہجرت کے بارے میں نوٹیفکیشن کے پی حکومت کا اپنا ہے اس سے وفاقی حکومت یا فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کے پی حکومت کے سرکردہ لوگ معمول کے ساتھ ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں، اس وقت بھی وادی تیراہ میں جو 500 ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یہ وہ ہی ہیں جو 2021ء میں دوبارہ کے پی کے میں لاکر بسائے گئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ علاقوں کے فیصلے کی واپسی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ دو، تین سالوں سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے پاک فوج کے افسران، جوانوں کی شہادت اور جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کے قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں، خیبر پی کے کے ترجمان اس حوالے سے بے بنیاد بیان بازیوں میں مصروف ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبر پی کے اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر کے آفریدی اور اکاخیل قبائل دیگر قبائل سے مختلف ہیں، ماضی گواہ ہے کہ ضلع خیبر کے قبائل سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں، یہ قبائل گرمیوں میں واپس تیراہ کے علاقے میں آ جاتے ہیں، خیبر پی کے کے ترجمان اس حوالے سے بے بنیاد بیان بازیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ایڈورڈ اے مرفی کی کتاب ’’دی خیبر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب 1899ء میں شائع ہوئی جس میں آفیشل گزیٹیئر کا حوالہ دیا گیا ہے، اس میں 1880ء میں یہ تحریر کیا گیا ہے کہ مذکورہ قبائل سردیوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، عالمی سطح پر شائع ہونے والی اس کتاب میں اس کا باقاعدہ ذکر موجود ہے، گزیٹیئر سے ہمیں مکمل تاریخ دستیاب ہوتی ہے۔ جو سردی ماضی میں اکتوبر میں شروع ہوتی تھی، اب موسمی تبدیلیوں کے باعث اس کا دورانیہ تبدیل ہو چکا ہے اس وقت جنوری کے آخر میں برف باری ہو رہی ہے حالانکہ ماضی میں نومبر میں برف باری ہو جاتی تھی، خیبر پی کے حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق خیبر کے قبائل رضاکارانہ طور پر جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ یہ بات درست ہے ماضی میں جو لوگ لائے گئے وہ سرحدی علاقوں میں بسے۔ کوئی پتا نہیں چار سال پہلے وہ بھتا اسلام آباد بھی آتا ہو۔ یہ صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔ چار ارب کا صوبائی پیکج کن لوگوں کی جیبوں میں گیا۔‘ تفتیش کر لیں۔ یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔ ہمیں جہاں اطلاع ملی ہے وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔ نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے وہ واپس لے لیں۔ وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ دہشتگردی کیخلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں۔ سالانہ ہجرت معمول ہے۔ مشران نے پھر وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی سے ملاقات کی۔ حکومت صحافیوں کو وادی کی صورتحال دکھانے کیلئے لے جا سکتی ہے۔ وادی تیراہ میں ٹی ٹی پی موجود ہے۔ فورسز انفارمیشن بیسڈ آپریشن کرتی ہے۔ علاقے کو خالی کروا کر کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔ صوبائی حکومت اور جرگے سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں سکول اور تھانے قائم کئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آرہی۔ خیبر پی کے حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتے ہیں جس کا وجود نہیں۔ تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔