data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-01-16
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ برفباری کے سبب ہر سال تیراہ میں نقل مکانی ہوتی ہے، اس بار بھی نقل مکانی سے قبل کے پی حکومت اور تیراہ کے عمائدین کے درمیان کامیاب جرگہ ہوا تھا جس کے بعد نوٹی فکیشن جاری کیا گیا۔یہ بات وزیر دفاع نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی اور دیگر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر کے سرحدی علاقوں بالخصوص وادی تیراہ میں موسم سرما کے دوران نقل مکانی کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں بلکہ یہ صدیوں سے جاری ایک معمول ہے، جس کا تذکرہ برطانوی دور کے گزٹیئرز میں بھی موجود ہے، اس مائیگریشن کا پاک فوج کے کسی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور وفاق پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جڑی تمام وادیوں میں شدید برف باری کے باعث ہر سال چند ماہ کے لیے نقل مکانی ہوتی ہے لوگ اپنے گھروں میں ایک دو افراد چھوڑ کر نسبتاً محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں، جو ایک فطری اور تاریخی عمل ہے، اسی تناظر میں 11 دسمبر کو ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں 12 سے 13 مشران شریک تھے یہ جرگہ نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ٹی ٹی پی کے نمائندوں سے بھی ملا، صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد مائیگریشن پیکیج طے پایا اور اس حوالے سے باقاعدہ دستاویزات بھی موجود ہیں، نقل مکانی کا نوٹیفکیشن کے پی حکومت اور جرگہ کی مشاورت سے جاری ہوا مگر نقل مکانی کو بحران قرار دینے کی کوشش ہورہی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تمام عمل میں فوج یا وہاں تعینات دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں، مذکورہ علاقے میں کئی سال قبل آپریشن ہوا تھا جس کے بعد فوج نے آئی ڈی پیز کی واپسی کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے سے آپریشن ختم کر دیا آج صورتحال یہ ہے کہ وہاں نہ اسپتال ہیں، نہ اسکول اور نہ ہی تھانہ، جبکہ جرگے کے ساتھ یہ طے پایا تھا کہ ان بنیادی سہولیات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نقل مکانی

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا