گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی کا سیاسی درجۂ حرارت بڑھ چکا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں تاہم یہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ حکومت ایک سانحے کی وضاحت میں گزشتہ ادوار کو یاد کرتی دکھائی دی تاکہ عوامی سوالات کا رخ بدلا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ تھا، جس میں 80 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور یہ سب انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق اگر حکومت بروقت ریسکیو آپریشن کرتی تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر ٹینڈرز، فائر باؤزرز، واٹر باؤزرز اور سنورکلز موقع پر آئے مگر وہ پانی کے بغیر تھے جس کی وجہ سے آگ پر قابو نہ پایا جا سکا۔

آحکومت کا رویہ افسوسناک ہے‘

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ایک عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ حکومت نے اس سانحے کو جس انداز میں لیا وہ نہایت افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ ماضی میں بھی آر جے مال جیسے واقعات پر چند دن بحث کے بعد معاملہ ختم ہو گیا تھا اور اس بار بھی ایسا ہی ہو جائے گا۔

مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے مکمل ازالے کا فیصلہ، سندھ کابینہ نے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی

علی خورشیدی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے پہلے دن ہی اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایا اور ہمارا ایک ہی بنیادی مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔

’جوڈیشل کمیشن ہی حقائق سامنے لا سکتا ہے‘

اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اصل محرکات کیا تھے، وجوہات کیا تھیں اور کن انتظامی کوتاہیوں کے باعث لوگوں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آگ بجھانے کے لیے صرف پانی پر انحصار کیوں کیا گیا اور کیا ایسے اقدامات ممکن تھے جن سے مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سوالات صرف جوڈیشل کمیشن میں ہی سامنے آ سکتے ہیں مگر حکومت نے اس کے برعکس کمشنر کراچی جو خود جوابدہ ہونا چاہیے کو ہی ایک کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا اور پھر کابینہ اجلاس میں اس کمیٹی پر ایک اور کمیٹی قائم کر دی گئی جو شہر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹ

علی خورشیدی کے مطابق اپوزیشن نے اسمبلی کا پلیٹ فارم استعمال کیا، واک آؤٹ کیا اور پہلے دن سے یہی مطالبہ دہراتے رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، سرکار کی مدعیت میں درج مقدمہ کی تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہے تو وہ انڈیپنڈنٹ جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھ دے اس سے ہماری سیاست خود ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ ہم سیاست کر رہے ہیں تو یہ ان کے لیے سنہری موقع ہے کہ ہماری سیاست دفن کر دیں۔

سیکیورٹی واپس لینے پر ردعمل

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین سے لے کر اراکین اسمبلی تک، جنہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی، وہ واپس لے لی گئی۔ حتیٰ کہ اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود ان سے بھی سیکیورٹی واپس لی گئی اور افسران کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات دے دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہماری باتوں سے اس حد تک ناراض ہے کہ سیکیورٹی لینا چاہتی ہے تو لے لے ہمیں کسی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کے درمیان رہتے ہیں۔

’ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی‘

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ صوبے میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس سانحے میں بلدیہ پر ظلم ہوا ہے اور واقعی ہوا ہے تو پھر ان ظالموں کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی، آخر کون ہے جو انہیں بچا کر بیٹھا ہے؟

انہوں نے وزیراعلیٰ کے اسمبلی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ لیز ماضی میں دی گئی تھی تو اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر واقعی لیز غلط دی گئی تھی، حالانکہ اس کا آگ لگنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، تو پھر جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں؟

یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان

انہوں نے کہا کہ جن 3 میئرز کے نام لیے جا رہے ہیں ان میں فاروق ستار حیات اور موجود ہیں اور رکنِ اسمبلی بھی ہیں  انہیں بلایا جائے وہ پیش ہونے کے لیے تیار ہیں مگر پھر صوبے کے وزیراعلیٰ اور موجودہ بلدیاتی نظام کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں آنا ہوگا۔

’شہر کی حالت اور ادارہ جاتی ناکامی‘

علی خورشیدی نے کہا کہ سنہ 2008 سے سنہ 2010 کے دوران کراچی دنیا کے 12 ترقی پذیر شہروں میں شامل ہونے لگا تھا مگر 17 سالہ حکمرانی کے بعد یہ شہر دنیا کے تیسرے بدترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔

ان کے مطابق صوبے میں کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں بتایا جا سکتا جہاں عوام کو معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہوں۔ یہاں ادارے الگ چلتے ہیں اور سسٹم الگ، ایک حکومت نظر آتی ہے اور ایک سسٹم کی حکومت جو صوبائی حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارے میں کرپشن عام ہے اور سب کو معلوم ہے کہ کس چیز کی کیا قیمت ہے۔

نئے صوبے کے مطالبے پر آئینی مؤقف

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان انہیں صوبے بنانے کا حق دیتا ہے اور آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سندھ میں نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کا مطالبہ غیر آئینی نہیں بلکہ آئین کے اندر رہتے ہوئے ایک باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے جس کے تحت صوبائی اسمبلی 2 تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: وزیر داخلہ سندھ کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق خبروں کی تردید

انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں ترامیم بھی ہوتی ہیں، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اس کی مثال ہیں اور ممکن ہے مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہوں کہ نئے صوبے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی شرط ہی ختم ہو جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی سانحہ گل پلازہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی سانحہ گل پلازہ علی خورشیدی کا کہنا انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم کہا کہ اگر اگر حکومت گل پلازہ رہے ہیں صوبے کے ہیں اور ہو جائے ایم کی ہے اور کے لیے ختم ہو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن