ایسے حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کہ نئے صوبے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی شرط ہی ختم ہو جائے، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی کا سیاسی درجۂ حرارت بڑھ چکا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں تاہم یہ پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ سندھ حکومت ایک سانحے کی وضاحت میں گزشتہ ادوار کو یاد کرتی دکھائی دی تاکہ عوامی سوالات کا رخ بدلا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کا واقعہ ایک قومی سانحہ تھا، جس میں 80 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور یہ سب انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق اگر حکومت بروقت ریسکیو آپریشن کرتی تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ فائر ٹینڈرز، فائر باؤزرز، واٹر باؤزرز اور سنورکلز موقع پر آئے مگر وہ پانی کے بغیر تھے جس کی وجہ سے آگ پر قابو نہ پایا جا سکا۔
آحکومت کا رویہ افسوسناک ہے‘علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ایک عام شہری یہ سوال کر رہا ہے کہ حکومت نے اس سانحے کو جس انداز میں لیا وہ نہایت افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ ماضی میں بھی آر جے مال جیسے واقعات پر چند دن بحث کے بعد معاملہ ختم ہو گیا تھا اور اس بار بھی ایسا ہی ہو جائے گا۔
مزید پڑھیے: سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے مکمل ازالے کا فیصلہ، سندھ کابینہ نے اہم منصوبوں کی منظوری دے دی
علی خورشیدی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے پہلے دن ہی اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایا اور ہمارا ایک ہی بنیادی مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔
’جوڈیشل کمیشن ہی حقائق سامنے لا سکتا ہے‘اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اصل محرکات کیا تھے، وجوہات کیا تھیں اور کن انتظامی کوتاہیوں کے باعث لوگوں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آگ بجھانے کے لیے صرف پانی پر انحصار کیوں کیا گیا اور کیا ایسے اقدامات ممکن تھے جن سے مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سوالات صرف جوڈیشل کمیشن میں ہی سامنے آ سکتے ہیں مگر حکومت نے اس کے برعکس کمشنر کراچی جو خود جوابدہ ہونا چاہیے کو ہی ایک کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا اور پھر کابینہ اجلاس میں اس کمیٹی پر ایک اور کمیٹی قائم کر دی گئی جو شہر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
اسمبلی میں احتجاج اور واک آؤٹعلی خورشیدی کے مطابق اپوزیشن نے اسمبلی کا پلیٹ فارم استعمال کیا، واک آؤٹ کیا اور پہلے دن سے یہی مطالبہ دہراتے رہے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، سرکار کی مدعیت میں درج مقدمہ کی تفصیلات سامنے آگئیں
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کر رہی ہے تو وہ انڈیپنڈنٹ جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھ دے اس سے ہماری سیاست خود ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ ہم سیاست کر رہے ہیں تو یہ ان کے لیے سنہری موقع ہے کہ ہماری سیاست دفن کر دیں۔
سیکیورٹی واپس لینے پر ردعملاپوزیشن لیڈر نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین سے لے کر اراکین اسمبلی تک، جنہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی، وہ واپس لے لی گئی۔ حتیٰ کہ اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود ان سے بھی سیکیورٹی واپس لی گئی اور افسران کو ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے کے احکامات دے دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہماری باتوں سے اس حد تک ناراض ہے کہ سیکیورٹی لینا چاہتی ہے تو لے لے ہمیں کسی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں کیوں کہ ہم عوامی لوگ ہیں اور عوام کے درمیان رہتے ہیں۔
’ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی‘علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ صوبے میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس سانحے میں بلدیہ پر ظلم ہوا ہے اور واقعی ہوا ہے تو پھر ان ظالموں کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی، آخر کون ہے جو انہیں بچا کر بیٹھا ہے؟
انہوں نے وزیراعلیٰ کے اسمبلی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ لیز ماضی میں دی گئی تھی تو اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر واقعی لیز غلط دی گئی تھی، حالانکہ اس کا آگ لگنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، تو پھر جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کیوں نہیں کرائی جاتیں؟
یہ بھی پڑھیے: گل پلازہ سانحہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ جن 3 میئرز کے نام لیے جا رہے ہیں ان میں فاروق ستار حیات اور موجود ہیں اور رکنِ اسمبلی بھی ہیں انہیں بلایا جائے وہ پیش ہونے کے لیے تیار ہیں مگر پھر صوبے کے وزیراعلیٰ اور موجودہ بلدیاتی نظام کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں آنا ہوگا۔
’شہر کی حالت اور ادارہ جاتی ناکامی‘علی خورشیدی نے کہا کہ سنہ 2008 سے سنہ 2010 کے دوران کراچی دنیا کے 12 ترقی پذیر شہروں میں شامل ہونے لگا تھا مگر 17 سالہ حکمرانی کے بعد یہ شہر دنیا کے تیسرے بدترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔
ان کے مطابق صوبے میں کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں بتایا جا سکتا جہاں عوام کو معیاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہوں۔ یہاں ادارے الگ چلتے ہیں اور سسٹم الگ، ایک حکومت نظر آتی ہے اور ایک سسٹم کی حکومت جو صوبائی حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارے میں کرپشن عام ہے اور سب کو معلوم ہے کہ کس چیز کی کیا قیمت ہے۔
نئے صوبے کے مطالبے پر آئینی مؤقفعلی خورشیدی کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان انہیں صوبے بنانے کا حق دیتا ہے اور آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سندھ میں نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کا مطالبہ غیر آئینی نہیں بلکہ آئین کے اندر رہتے ہوئے ایک باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے جس کے تحت صوبائی اسمبلی 2 تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: وزیر داخلہ سندھ کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق خبروں کی تردید
انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں ترامیم بھی ہوتی ہیں، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اس کی مثال ہیں اور ممکن ہے مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہوں کہ نئے صوبے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی شرط ہی ختم ہو جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی سانحہ گل پلازہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی ایم کیو ایم پاکستان ایم کیو ایم رہنماؤں کی سیکیورٹی سانحہ گل پلازہ علی خورشیدی کا کہنا انہوں نے کہا کہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم کہا کہ اگر اگر حکومت گل پلازہ رہے ہیں صوبے کے ہیں اور ہو جائے ایم کی ہے اور کے لیے ختم ہو
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔