کراچی (سٹاف رپورٹر+آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں  جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5-5  لاکھ روپے کچن اور یوٹیلٹی اخراجات کیلئے  کمشنر کے ذریعے ادا کئے جا رہے ہیں۔ سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی۔ علاوہ ازیں  سندھ کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری دے دی، ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کو رجسٹرڈ مزدوروں کی فلاحی سکیموں کے لیے دوبارہ فعال کر دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد مارسٹن اور اطراف کے علاقوں میں 11 روز سے گیس کی سپلائی معطلی سے علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت گل پلازا کے متاثرین کے ساتھ ہے اور سندھ حکومت گل پلازا کے متاثرین کو ہر صوررت بحال کرے گی۔ سندھ کابینہ کے اجلاس میں سانحہ گل پلازا کے شہداء کے لیے دعا کی گئی۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ کیا ایم کیو ایم کے وزراء نے وفاق میں سکیورٹی لے کر جانی تھی؟ وفاقی وزراء اسلام آباد میں ایک ایک سپاہی کے ساتھ گھومتے ہیں جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے وزراء کو دس، دس سپاہی فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست دفن ہو چکی ہے اور عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔ سانحہ گل پلازہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جس گھر میں افسوس کا ماحول ہوتا ہے لوگ وہاں تعزیت کے لیے آتے ہیں۔ پراپیگنڈا کرنے نہیں، آج سے شہداء اور متاثرین کے گھروں میں چیکس خود پہنچائے جا رہے ہیں اور جو لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں ان کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ بہت جلد آ جائے گی اور اگر رپورٹ سے اطمینان نہ ہوا تو جوڈیشل کمشن بھی بنایا جا سکتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت نے ہمیشہ منفی سیاست کی ہے اور چیزوں کو بگاڑنے والوں میں شامل رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینا چاہیے۔ ایم کیو ایم نے اپنے قائدِ تحریک کو چھوڑ دیا ہے جو ماضی میں گھنٹوں ویڈیو کالز کے ذریعے شہر میں سوگ کا اعلان کرتے تھے۔ سوگ کو کامیاب بنانے کے لیے تیس، تیس معصوم مزدوروں کی جانیں لی جاتی تھیں، بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنی سیاست چمکائی، انکوائری رپورٹ آنے سے پہلے سڑکوں پر سیاست چمکا کر ڈرامے کرنے سے گریز کیا جائے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کسی عمارت کی اجازت نہیں دی اور دستخط دکھانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر حکومت نے ان کے دستخط پیش کر دیئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے بطور میئر بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ شرجیل میمن نے مزید کہا ہے کہ قبر کی مٹی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی اور منفی سیاست شروع کر دی گئی ہے جبکہ بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنا سیاسی مفاد حاصل کیا۔ شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض شوشہ تھا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ گل پلازہ واقعے کے بعد حکومت نے لاہور سے فورنزک ٹیم طلب کی جس سے حکومت کی نیت واضح ہوتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے بھی ماہرین بلائے جائیں گے کسی حکومتی ذمہ دار نے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دیا۔  ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال  بولے  کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہئے، کراچی کو فی الفور وفاق کا حصہ بنایا جائے، وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہئے۔ گل پلازا کا سانحہ ہوا، لوگ شہید ہوگئے، گل پلازہ کی غفلت اور کارکردگی پر ہم نے اسے ظلم کہا، ظلم کوظلم کہنے پر یہ رویہ ہے تو دوبارہ کہتا ہوں کراچی کو ان کے چنگل سے آزاد کرایا جائے، ہمیں سکیورٹی ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ سمجھتے ہیں سکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرا لیں گے، انہیں حق نہیں کہ وہ کراچی کے حکمران رہیں، گل پلازہ واقعہ پر تنقید کرنے پر سکیورٹی واپس لے گئی۔ دریں اثناء سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ شہر میں پولیس کم ہے، ہو سکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی ہو۔ میڈیا سے گفتگو میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ میرے پاس کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول، وفاقی وزیر  مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو سکیورٹی واپس دے دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا ہے اور انہیں بھی سکیورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم سکیورٹی واپس لینے کے ٹول کو پراپیگنڈا کے طور پر لے رہی ہے، لوگ پیاروں کی ڈیڈ باڈی ڈھونڈ رہے تھے، آپ سیاست کررہے تھے۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ سانحہ گل پلازا پر وفاقی حکومت کے دو اتحادی پھر آمنے سامنے آ گئے۔ سندھ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سندھ اسمبلی میں گرما گرمی ہوئی۔ اپوزیشن نے اسمبلی میں شدید احتجاج کیا۔ سندھ حکومت اور میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمشن بنانے کا مطالبہ کرتے کہا کہ حکومت کی کسی بات پر بھروسہ نہیں۔ آزادانہ جوڈیشل کمشن بنا دیں۔ ہم ڈرنے والے نہیں جتنی سکیورٹی واپس لینی ہے لے سو تلخی پیدا نہ کریں عدالتی تحقیقات کروائیں۔ سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا حکومت کسی کی ڈکٹیشن پر کام نہیں کرے گی۔ مناسب سمجھا تو عدالتی کمشن بنایا جائے گا۔ سیاست اور ڈرامے کرنے سے کام نہیں ہو گا۔ حکومت نے لاہور سے فرانزک ٹیم بھی بلائی۔ تحقیقات سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمشن بنایا جا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی معصوم لوگوں کو گولیاں ماریں۔  ایم کیو ام کے رہنما فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں لیکن کراچی کیلئے فیصلہ کرنا ہو گا۔ کراچی کے عوام مطالبہ کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ‘ شرجیل میمن اور میئر کراچی استعفیٰ دیں۔ ہم استعفیٰ نہیں مانگ رہے۔ بلاول بھٹو زرداری خود ان سے استعفیٰ مانگ لیں۔ آپ کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں۔ آصف زرداری سے بلاول بھٹو مشورہ کریں۔ بلاول بھٹو سے ڈیڑھ سال سے ملاقات کا وقت مانگ رہے ہیں لیکن وہ ملتے نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے وزراء سکیورٹی واپس لی سانحہ گل پلازہ کہ ایم کیو ایم شرجیل میمن نے جوڈیشل کمشن سندھ کابینہ میمن نے کہا سندھ حکومت فاروق ستار کہا ہے کہ نے کہا کہ بنایا جا کراچی کو کے رہنما گل پلازا رہے ہیں ہے اور کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن