کراچی (سٹاف رپورٹر+آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں  جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5-5  لاکھ روپے کچن اور یوٹیلٹی اخراجات کیلئے  کمشنر کے ذریعے ادا کئے جا رہے ہیں۔ سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی۔ علاوہ ازیں  سندھ کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری دے دی، ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کو رجسٹرڈ مزدوروں کی فلاحی سکیموں کے لیے دوبارہ فعال کر دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد مارسٹن اور اطراف کے علاقوں میں 11 روز سے گیس کی سپلائی معطلی سے علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت گل پلازا کے متاثرین کے ساتھ ہے اور سندھ حکومت گل پلازا کے متاثرین کو ہر صوررت بحال کرے گی۔ سندھ کابینہ کے اجلاس میں سانحہ گل پلازا کے شہداء کے لیے دعا کی گئی۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ کیا ایم کیو ایم کے وزراء نے وفاق میں سکیورٹی لے کر جانی تھی؟ وفاقی وزراء اسلام آباد میں ایک ایک سپاہی کے ساتھ گھومتے ہیں جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم کے وزراء کو دس، دس سپاہی فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست دفن ہو چکی ہے اور عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔ سانحہ گل پلازہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جس گھر میں افسوس کا ماحول ہوتا ہے لوگ وہاں تعزیت کے لیے آتے ہیں۔ پراپیگنڈا کرنے نہیں، آج سے شہداء اور متاثرین کے گھروں میں چیکس خود پہنچائے جا رہے ہیں اور جو لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں ان کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ کی انکوائری رپورٹ بہت جلد آ جائے گی اور اگر رپورٹ سے اطمینان نہ ہوا تو جوڈیشل کمشن بھی بنایا جا سکتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت نے ہمیشہ منفی سیاست کی ہے اور چیزوں کو بگاڑنے والوں میں شامل رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمان کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینا چاہیے۔ ایم کیو ایم نے اپنے قائدِ تحریک کو چھوڑ دیا ہے جو ماضی میں گھنٹوں ویڈیو کالز کے ذریعے شہر میں سوگ کا اعلان کرتے تھے۔ سوگ کو کامیاب بنانے کے لیے تیس، تیس معصوم مزدوروں کی جانیں لی جاتی تھیں، بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنی سیاست چمکائی، انکوائری رپورٹ آنے سے پہلے سڑکوں پر سیاست چمکا کر ڈرامے کرنے سے گریز کیا جائے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کسی عمارت کی اجازت نہیں دی اور دستخط دکھانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر حکومت نے ان کے دستخط پیش کر دیئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے بطور میئر بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ شرجیل میمن نے مزید کہا ہے کہ قبر کی مٹی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی اور منفی سیاست شروع کر دی گئی ہے جبکہ بعض عناصر نے ہمیشہ لاشوں پر سیاست کی اور معصوم لوگوں کی جانیں لے کر اپنا سیاسی مفاد حاصل کیا۔ شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض شوشہ تھا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ گل پلازہ واقعے کے بعد حکومت نے لاہور سے فورنزک ٹیم طلب کی جس سے حکومت کی نیت واضح ہوتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے بھی ماہرین بلائے جائیں گے کسی حکومتی ذمہ دار نے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دیا۔  ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال  بولے  کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہئے، کراچی کو فی الفور وفاق کا حصہ بنایا جائے، وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہئے۔ گل پلازا کا سانحہ ہوا، لوگ شہید ہوگئے، گل پلازہ کی غفلت اور کارکردگی پر ہم نے اسے ظلم کہا، ظلم کوظلم کہنے پر یہ رویہ ہے تو دوبارہ کہتا ہوں کراچی کو ان کے چنگل سے آزاد کرایا جائے، ہمیں سکیورٹی ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ سمجھتے ہیں سکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرا لیں گے، انہیں حق نہیں کہ وہ کراچی کے حکمران رہیں، گل پلازہ واقعہ پر تنقید کرنے پر سکیورٹی واپس لے گئی۔ دریں اثناء سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ شہر میں پولیس کم ہے، ہو سکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی ہو۔ میڈیا سے گفتگو میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ میرے پاس کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول، وفاقی وزیر  مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو سکیورٹی واپس دے دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا ہے اور انہیں بھی سکیورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم سکیورٹی واپس لینے کے ٹول کو پراپیگنڈا کے طور پر لے رہی ہے، لوگ پیاروں کی ڈیڈ باڈی ڈھونڈ رہے تھے، آپ سیاست کررہے تھے۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزراء سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ سانحہ گل پلازا پر وفاقی حکومت کے دو اتحادی پھر آمنے سامنے آ گئے۔ سندھ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سندھ اسمبلی میں گرما گرمی ہوئی۔ اپوزیشن نے اسمبلی میں شدید احتجاج کیا۔ سندھ حکومت اور میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمشن بنانے کا مطالبہ کرتے کہا کہ حکومت کی کسی بات پر بھروسہ نہیں۔ آزادانہ جوڈیشل کمشن بنا دیں۔ ہم ڈرنے والے نہیں جتنی سکیورٹی واپس لینی ہے لے سو تلخی پیدا نہ کریں عدالتی تحقیقات کروائیں۔ سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا حکومت کسی کی ڈکٹیشن پر کام نہیں کرے گی۔ مناسب سمجھا تو عدالتی کمشن بنایا جائے گا۔ سیاست اور ڈرامے کرنے سے کام نہیں ہو گا۔ حکومت نے لاہور سے فرانزک ٹیم بھی بلائی۔ تحقیقات سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمشن بنایا جا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں خون کی ہولی کھیلی معصوم لوگوں کو گولیاں ماریں۔  ایم کیو ام کے رہنما فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں لیکن کراچی کیلئے فیصلہ کرنا ہو گا۔ کراچی کے عوام مطالبہ کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ‘ شرجیل میمن اور میئر کراچی استعفیٰ دیں۔ ہم استعفیٰ نہیں مانگ رہے۔ بلاول بھٹو زرداری خود ان سے استعفیٰ مانگ لیں۔ آپ کراچی کو وفاق کے حوالے کر دیں۔ آصف زرداری سے بلاول بھٹو مشورہ کریں۔ بلاول بھٹو سے ڈیڑھ سال سے ملاقات کا وقت مانگ رہے ہیں لیکن وہ ملتے نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے وزراء سکیورٹی واپس لی سانحہ گل پلازہ کہ ایم کیو ایم شرجیل میمن نے جوڈیشل کمشن سندھ کابینہ میمن نے کہا سندھ حکومت فاروق ستار کہا ہے کہ نے کہا کہ بنایا جا کراچی کو کے رہنما گل پلازا رہے ہیں ہے اور کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن