data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نوشہروفیروز (جسارت نیوز)نوشہروفیروزایک شہر ہے، مگر آج اس کی حالت کسی لاوارث بستی سے کم نہیں۔ سڑکوں پر بہتا گندا پانی، ابلتے گٹر، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور تعفن زدہ ماحول اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ یہاں بلدیاتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔میونسپل چیئرمین ڈاکٹر کاشف اور میونسپل آفیسر عبدالفتح تگر کی نااہلی اب کسی راز کی محتاج نہیں رہی۔ شہر کا شاید ہی کوئی علاقہ ہو جہاں گٹر کا پانی سڑک پر نہ بہہ رہا ہو۔ تعلیمی اداروں کو جانے والے بچے روزانہ اس گندگی سے گزرنے پر مجبور ہیں، مگر ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب میونسپل ادارے کو ماہانہ کروڑوں روپے کا بجٹ ملتا ہے تو پھر یہ رقم کہاں جا رہی ہے؟ اگر واقعی یہ فنڈز شہری سہولیات پر خرچ ہو رہے ہیں تو شہر کی موجودہ حالت اس کی نفی کیوں کرتی ہے؟ زمینی حقائق واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بدانتظامی کے ساتھ ساتھ کرپشن بھی اپنے عروج پر ہے۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ آج سے نہیں، برسوں سے ہو رہا ہے۔ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، مگر نہ کوئی آڈٹ، نہ انکوائری اور نہ ہی کسی قسم کا احتساب نظر آتا ہے۔ لگتا یوں ہے جیسے نوشہروفیروز میں قانون اور نگرانی کا نظام معطل ہو چکا ہو۔سوال یہ بھی ہے کہ آخر کب تک شہری اس اذیت کو برداشت کرتے رہیں گے؟ اور کب تک بلدیاتی نمائندے عوام کے صبر کا امتحان لیتے رہیں گے؟ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ نمائندے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں، مگر یہاں جوابدہی کا تصور ہی ناپید ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام، متعلقہ محکمے، نیب اور اینٹی کرپشن ادارے فوری طور پر نوشہروفیروز کی میونسپل انتظامیہ کے معاملات کا نوٹس لیں۔ شفاف تحقیقات کے بغیر نہ صرف شہر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام کا نظام پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یاد رکھنا چاہیے کہ گندگی صرف سڑکوں پر نہیں، نظام میں بھی پھیلتی چلی جائے گی، اور پھر اس کی صفائی کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گی۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن