Jasarat News:
2026-07-24@07:45:14 GMT

چین، یورپ حریف نہیں شراکت دار ہیں: چینی صدر

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور یورپ ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے یہ بات چین کا دورہ کرنے والے فن لینڈ کے وزیرِ اعظم پیٹّری اورپو سے ملاقات کے دوران کہی۔

اُنہوں نے کہا کہ چین اور یورپ کے درمیان تعاون، مسابقت پر بھاری ہے اور ان کے مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔

چینی صدر نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ فن لینڈ چین۔یورپ تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ چین اور فن لینڈ کو توانائی کی منتقلی، سرکلر اکانومی، زراعت اور جنگلاتی صنعتوں نیز سائنسی اور تکنیکی جدت جیسے شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔

انہوں نے فن لینڈ کی کمپنیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں وسیع چینی منڈی میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی تاکہ وہ اپنی عالمی مسابقت کو مزید مضبوط بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ چین فن لینڈ کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور منظم کثیر قطبی دنیا کے فروغ نیز ہمہ گیر فوائد پر مبنی اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو آگے بڑھانے کے لئے بھی تیار ہے۔

شی جن پنگ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین فن لینڈ کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے ساتھ بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کے مضبوط تحفظ کے لئے کام کرنے کو تیار ہے اور عالمی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرے گا۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چینی صدر فن لینڈ کہ چین

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم