فافن کی صوبوں میں انفارمیشن اور کیمونیکیشن کی سہولیات رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) فافن نے صوبوں میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن کی سہولیات کی دستیابی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے ، جس میں کہا گیاہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی رسائی میں نمایاں اضافہ جبکہ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی دستیابی میں کمی ہوئی، 2018-19 کے بعد گھریلو سطح پر کمپیوٹرکی دستیابی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
فافن رپورٹ کے مطابق موبائل یا اسمارٹ فون رکھنے والوں کی شرح 45 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو گئی، گھریلو سطح پر انٹرنیٹ کی دستیابی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی، پنجاب اور سندھ میں 15 فیصد گھروں میں کمپیوٹر موجودہیں، کے پی میں 13فیصد،بلوچستان میں صرف 6 فیصد گھروں میں کمپیوٹر موجودہیں، خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ افراد کے پاس ذاتی موبائل فون ہیں، خیبرپخوامیں51 فیصد افراد کے پاس موبائل فون موجودہیں، پنجاب اور سندھ میں50 فیصد،بلوچستان میں 42 فیصد افراد کے پاس موبائل فونزہیں، خیبرپختوا میں77 فیصد گھروں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے، پنجاب اور بلوچستان میں69 فیصد، سندھ میں 67 فیصد گھروں میں انٹرنیٹ موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصد گھروں میں کی دستیابی موبائل فون
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔