امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، مشتبہ شخص گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امریکی ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر پر منیاپولس میں منعقدہ ایک ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران ایک شخص نے حملہ کیا اور ان پر بدبودار مائع چھڑک دیا۔
یہ واقعہ منگل کے روز اُس وقت پیش آیا جب الہان عمر منی سوٹا میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں پر شدید تنقید کر رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایوانِ نمائندگان نے الہان عمر کے خلاف سرزنش کی قرارداد مسترد کر دی
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اچانک لیکچر اسٹینڈ کی جانب لپکا اور الہان عمر پر مائع چھڑک دیا۔
اسی لمحے ایک طاقتور شخص نے حملہ آور کو پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔
A man who sprayed an unknown liquid on Democrat Rep.
— The Western Journal (@WesternJournalX) January 28, 2026
الہان عمر نے ہاتھ اٹھا کر چند قدم اس کی طرف بڑھائے، تاہم حملہ آور کے قابو میں آتے ہی وہ مختصر وقفے کے بعد دوبارہ اپنی تقریر جاری رکھنے لگیں۔
پولیس کے مطابق موقع پر موجود افسران نے دیکھا کہ حملہ آور نے سرنج کے ذریعے ایک نامعلوم مائع الہان عمر پر چھڑکا۔
پولیس نے اسے فوری طور پر تیسرے درجے کے حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
مزید پڑھیں: نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد، امریکا میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں اضافہ
پولیس کا کہنا ہے کہ الہان عمر محفوظ رہیں اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ فرانزک ماہرین کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کیا گیا۔
حملے کے وقت الہان عمر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم پر تنقید کر رہی تھیں.
انہوں نے منیا پولس میں حالیہ ہفتوں کے دوران 2 امریکی شہریوں کی فائرنگ سے ہلاکت کے تناظر میں ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کارروائیوں میں تیزی کے دوران پیش آئے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں ‘نو کنگز’ احتجاج: ٹرمپ نے خود کو بادشاہ بناکر مظاہرین پر گندگی گرانے والی ویڈیو شیئر کر دی
الہان عمر کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ میں اصلاح ممکن نہیں، اسے بہتر نہیں بنایا جا سکتا، ہمیں اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔
’ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کو استعفیٰ دینا ہوگا یا پھر مواخذے کا سامنا کرنا چاہیے۔‘
اسی دوران حملہ آور نے ان کی جانب بڑھتے ہوئے مائع چھڑکا اور کہا کہ آپ کو استعفیٰ دینا ہوگا۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کیخلاف امریکا میں 2600 سے زائد مقامات پر ریلیاں اور احتجاج، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
الہان عمر کو ماضی میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیاسی تنقید کا سامنا رہا ہے، جنہوں نے ایک موقع پر انہیں ’کوڑا کرکٹ‘ قرار دیا تھا۔
منگل کے روز آئیوا میں ایک تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ الہان عمر امریکا سے محبت نہیں کرتیں۔
’انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے ملک سے محبت کرتے ہیں، انہیں فخر ہونا چاہیے، الہان عمر کی طرح نہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الہان عمر ٹاؤن ہال حملہ آور ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس منی سوٹا منیا پولس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الہان عمر ٹاؤن ہال حملہ آور ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس منی سوٹا منیا پولس الہان عمر پر کے دوران حملہ آور
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔