WE News:
2026-06-02@23:55:53 GMT

امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، مشتبہ شخص گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

امریکی ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر پر منیاپولس میں منعقدہ ایک ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران ایک شخص نے حملہ کیا اور ان پر بدبودار مائع چھڑک دیا۔

یہ واقعہ منگل کے روز اُس وقت پیش آیا جب الہان عمر منی سوٹا میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں پر شدید تنقید کر رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ایوانِ نمائندگان نے الہان عمر کے خلاف سرزنش کی قرارداد مسترد کر دی

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص اچانک لیکچر اسٹینڈ کی جانب لپکا اور الہان عمر پر مائع چھڑک دیا۔

اسی لمحے ایک طاقتور شخص نے حملہ آور کو پکڑ کر زمین پر گرا دیا۔

A man who sprayed an unknown liquid on Democrat Rep.

Ilhan Omar at a town hall event in Minneapolis late Tuesday was tackled and arrested, according to multiple news sources and video of the event. The town hall was about Immigration and Customs… https://t.co/UJcIIJ9Enn pic.twitter.com/1uZsn3rpqA

— The Western Journal (@WesternJournalX) January 28, 2026

الہان عمر نے ہاتھ اٹھا کر چند قدم اس کی طرف بڑھائے، تاہم حملہ آور کے قابو میں آتے ہی وہ مختصر وقفے کے بعد دوبارہ اپنی تقریر جاری رکھنے لگیں۔

پولیس کے مطابق موقع پر موجود افسران نے دیکھا کہ حملہ آور نے سرنج کے ذریعے ایک نامعلوم مائع الہان عمر پر چھڑکا۔

پولیس نے اسے فوری طور پر تیسرے درجے کے حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

مزید پڑھیں: نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد، امریکا میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں اضافہ

پولیس کا کہنا ہے کہ الہان عمر محفوظ رہیں اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ فرانزک ماہرین کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کیا گیا۔

حملے کے وقت الہان عمر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم پر تنقید کر رہی تھیں.

انہوں نے منیا پولس میں حالیہ ہفتوں کے دوران 2 امریکی شہریوں کی فائرنگ سے ہلاکت کے تناظر میں ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کارروائیوں میں تیزی کے دوران پیش آئے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ‘نو کنگز’ احتجاج: ٹرمپ نے خود کو بادشاہ بناکر مظاہرین پر گندگی گرانے والی ویڈیو شیئر کر دی

الہان عمر کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ میں اصلاح ممکن نہیں، اسے بہتر نہیں بنایا جا سکتا، ہمیں اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔

’ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کو استعفیٰ دینا ہوگا یا پھر مواخذے کا سامنا کرنا چاہیے۔‘

اسی دوران حملہ آور نے ان کی جانب بڑھتے ہوئے مائع چھڑکا اور کہا کہ آپ کو استعفیٰ دینا ہوگا۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کیخلاف امریکا میں 2600 سے زائد مقامات پر ریلیاں اور احتجاج، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟

الہان عمر کو ماضی میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیاسی تنقید کا سامنا رہا ہے، جنہوں نے ایک موقع پر انہیں ’کوڑا کرکٹ‘ قرار دیا تھا۔

منگل کے روز آئیوا میں ایک تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ الہان عمر امریکا سے محبت نہیں کرتیں۔

’انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ہمارے ملک سے محبت کرتے ہیں، انہیں فخر ہونا چاہیے، الہان عمر کی طرح نہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الہان عمر ٹاؤن ہال حملہ آور ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس منی سوٹا منیا پولس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الہان عمر ٹاؤن ہال حملہ آور ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس منی سوٹا منیا پولس الہان عمر پر کے دوران حملہ آور

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان