حکومت نے پاکستان میں پہلی مرتبہ زیرِ زمین گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات قائم کرنے کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں قومی ضروریات کے مطابق 11 سے 12 دن کی گیس ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

دی نیوز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایل این جی کارگو کا بار بار رخ موڑنے اورگیس ترسیلی نظام میں بڑھتے ہوئے حفاظتی خدشات کے پیشِ نظرکیا گیا ہے۔

انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمزنے زیرزمین گیس اسٹوریج منصوبے کے لیے ضرورت کے تعین اور پری فزیبلٹی اسٹڈی کرانے کی غرض سے تجربہ کار کنسلٹنسی فرموں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔

نیوز رپورٹ کے مطابق، یہ عمل پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ای پی اے ڈی پورٹل کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

اس وقت پاکستان کے پاس گیس ذخیرہ کرنے کا کوئی باقاعدہ انفرا اسٹرکچر موجود نہیں اور ملک تقریباً مکمل طور پر پائپ لائن پر مشتمل لائن پیک پر انحصار کرتا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کے مطابق یہ طریقہ نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ ممکنہ طور پر خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

کم طلب کے ادوار میں اضافی گیس آرایل این جی پائپ لائن سسٹم میں جمع ہوجاتی ہے، جس کے باعث لائن پیک کا دباؤ 5 ارب مکعب فٹ سے تجاوز کر جاتا ہے۔

حکام اس سطح کے دباؤ کو ایک سنگین حفاظتی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایل این جی کارگو گیس اسٹوریج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایل این جی کارگو گیس اسٹوریج کے مطابق

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار